تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 234

’’میں کون ہوں جو فرعون کے پاس جائوں اور بنی اسرائیل کو مصر سے نکال لائوں۔‘‘ (خروج باب ۳ آیت ۱۱) بلکہ انہوں نے یہاں تک کہا کہ ’’اے خداوند ! میں تیری منّت کرتا ہوں کہ کسی اور کے ہاتھ سے جسے تو چاہے یہ پیغام بھیج۔‘‘ (خروج باب ۴ آیت ۱۳) جب انہوں نے باربار نکار کیا تو بائیبل کہتی ہے کہ :۔’’تب خداوند کا قہر موسیٰ پر بھڑکا۔‘‘ (خروج باب ۴ آیت ۱۴) گویا نعوذ باللہ خدا تعالیٰ کا وہ قہر جس کے مورد خدا اور اس کے نبیوں کے دشمن ہو ا کرتے ہیں اس کا پہلا نشانہ خو د حضرت موسیٰ علیہ السلام ہی بن گئے اور ان پر خدا تعالیٰ کا قہر بھڑکنا شروع ہوگیا۔لیکن قرآن کریم حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان تمام الزامات سے بری قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم نےموسیٰ ؑ سے کہا کہ اِنَّکَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ۔اے موسیٰ! تجھے کسی قسم کا خطرہ محسوس نہیں کرنا چاہیے کیونکہ تو سلامتی پانے والوں میں سے ہے۔پھر اس نے نہ صرف موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کو غلبہ کا وعدہ دیا بلکہ انہیں یہ بھی بشارت دی کہ وہ لوگ جو تم پر ایمان لائیں گے اللہ تعالیٰ انہیں بھی غلبہ عطا فرمائے گا غرض بائیبل نے توموسیٰ ؑ کو مورد قہر قرار دیا ہے۔مگر قرآن کریم انہیں خدائی انعامات اور برکات کا مورد قرار دیتا ہے۔سوم۔بائیبل کہتی ہے کہ ’’پھر خداوند نے اسے یہ بھی کہا۔کہ تو اپنا ہاتھ اپنے سینہ پر رکھ کر ڈھانک لے۔اس نے اپنا ہاتھ اپنے سینہ پر رکھ کر اسے ڈھانک لیا۔اور جب اس نے نکال کر دیکھا تو اس کا ہاتھ کوڑھ سے برف کی مانند سفید تھا۔‘‘ (خروج باب ۴ آیت ۶) لیکن قرآن کریم کہتاہے کہ اُسْلُكْ يَدَكَ فِيْ جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْرِ سُوْٓءٍ تو اپنے ہاتھ کو اپنے گریبان میں ڈال وہ بغیر کسی بیماری کے سفید نکلے گا یعنی تیرا ہاتھ سفید تو ہوگا مگر کوڑھ کی وجہ سے نہیں جیسا کہ بائیبل کہتی ہے بلکہ ایک الٰہی نشان کے طور پر اس میں نور نظر آئے گا۔چہارم۔بائیبل کہتی ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام پر خدا تعالیٰ کاقہر بھڑکاتواس نے کہا :۔’’ کیا لاویوں میں سے ہارون تیرابھائی نہیں ہے؟ میں جانتاہوں کہ وہ فصیح ہے۔اور وہ تیری