تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 232

جَآنٌّ۔جَآنٌّ جَنَّ سے اسم فاعل ہے اورجَآنٌّ پو شیدہ رہنے والی چیز کو کہتے ہیں۔اِسْمُ جَمْعٍ مِنَ الْجِنِّ۔جنّ کا اسم جمع ہے۔نیز جَآنٌ کے معنے ہیں حَیَّۃٌبَیْضَآءُ کَحْلا ءُ الْعَیْنِ لَاتُؤْذِیْ۔سفید رنگ کا سانپ جس کی آنکھیں سُرمگیں ہوتی ہیں اور کوئی نقصان نہیں پہنچاتا۔رِدْءً۔اَلرِدْءُ کے معنے ہیں اَلْعَوْنُ۔مدد کرنا اَلْنَاصِرُ۔مدد گار۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے جب موسیٰ ؑ نے پیش کردہ مدّت پوری کرلی اور اپنے اہل کو لے کر چل پڑا۔تو راستہ میں طُور (طور کی تشریح کے لئے دیکھیں تفسیر کبیر سورۃ التین ) کی طرف اس نے ایک آگ کا شعلہ دیکھا اوراپنے اہل سے کہا کہ ذرا یہیں ٹھہرو۔میں نے ایک قسم کی آگ دیکھی ہے۔میَں وہاں جارہا ہوں۔ممکن ہے کہ میَں وہاں سے تمہارے لئے کوئی خبر لاؤں۔یا اُس آگ میںسے کوئی انگارہ لاؤں۔جس سے تم سینکو۔جب وہ اس آگ کے پاس آیا تو اُس مبارک زمین کے ایک مبارک حصّہ کی طرف سے ایک درخت کی جہت آواز آئی۔(یعنی موسیٰ کو الہام ہوا )کہ اے موسیٰ!میں اللہ ربّ العالمین ہوں۔پھر دوسراالہام یہ ہوا کہ اے موسیٰ!تُو اپنا عصاپھینک دے موسیٰ ؑ نے ایسا ہی کیا لیکن جب اس نے اسے ایک چھوٹے سانپ کی طرح تیزی سے ہلتے ہوئے دیکھا تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا۔اور اس نے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ہم نے کہا۔اے موسیٰ!آ اور ڈر نہیں۔تو سلامتی پانے والوں میں سے ہے۔پھر ہم نے کہا کہ اپنے ہاتھ کو اپنے گریبان میں ڈال وہ بغیر کسی بیماری کے سفید نکلے گا۔اور اپنے بازوکو خوف کی وجہ سے اپنے جسم سے چمٹا لے۔یہ دو دلیلیں تیرے رب کی طرف سے تجھے ملی ہیں تاکہ تو ان کو فرعون اور اس کے سرداروں کے سامنے پیش کرے۔کیونکہ وہ ایک اطاعت سے نکلی ہوئی قوم ہے۔موسیٰ ؑ نے کہا۔اے میرے رب! فرعون کی قوم کا ایک آدمی میرے ہاتھ سے مارا جا چکا ہے اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ وہ کہیں مجھے دیکھتے ہی قتل نہ کردیں اور تیرا پیغام فرعون اور اس کے سرداروں کو نہ پہنچ سکے۔اور اے میرے رب ! میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصاحت رکھنے والا ہے۔اس کو میرے ساتھ مددگار کے طورپر مقرر فرما دیجئیے۔تاکہ وہ میرے دعاوی کی تصدیق کرے اور میری صداقت اور راستبازی پر گواہی دے۔مجھے یہ ڈر ہے کہ صرف میری زبان سے اس پیغام کو سن کر وہ پرانی عداوت کی وجہ سے فوراً ہی جھٹلانے پر آمادہ نہ ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم تیرے بھائی کو تیرے ساتھ ہی مبعوث کرکے تیری مدد کریں گے اور تمہارے لئے اپنے پاس سے دلائل مہیا کریں گے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ فرعون اور اس کے ساتھی تم کو کوئی نقصان نہیںپہنچا سکیں گے۔بلکہ تم دونوں اور تمہارے اتباع ہمارے نشانوں کے ذریعہ غالب رہو گے۔ان آیات میں نُوْدِيَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ يّٰمُوْسٰۤى اِنِّيْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ