تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 219
ہٹارہی تھیں۔خَطْبُکُمَا:اَلْـخَطْبُ کے معنے ہیں اَلْاَمْرُ الْعَظِیْمُ الَّذِیْ یَکْثُرُ فِیْہِ التَّخَاطُبُ(مفردات راغب) ایسااہم معاملہ جس میں کثرت سے باہم گفت وشنید کی جائے۔یُصْدِرُ:یُصْدِرُاَصْدَرَ سے فعل مضارع ہے۔اور اَصْدَرَ فُلَانًا کے معنی ہیں ذَھَبَ بِہٖ۔اسے لے گیا(اقرب) پس یُصْدِرُ کے معنے ہوں گے۔وہ لے جاتا ہے یا لے جائے گا۔اَلرِّعَاءُ: اَلرِّعَاءُاَلرَّاعِیْ کی جمع ہے۔رَاعِیْ چرواہے کوکہتے ہیں۔نیز اس کے معنے ہیں کُلُّ مَنْ وَلِیَ اَمْرَ قَوْمٍ۔ہروہ شخص جوقوم کے کسی معاملہ کاذمہ وار ہو۔(اقرب)پس اَلرِّعَاءُ کے معنے ہوں گے۔چرواہے۔تفسیر۔حضرت موسیٰ علیہ السلام جب مدین کی طرف چلے توایسامعلوم ہوتاہے کہ جیسے حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایاتھا کہ اِنِّيْ لَاَجِدُ رِيْحَ يُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ(یوسف : ۹۵)یعنی اگر تم میرے متعلق یہ نہ کہنا شروع کردو کہ یہ بوڑھا سٹھیا گیاہے اوراسے ہروقت یوسف کاہی خیال رہتاہے۔تومیں تمہیں بتاناچاہتاہوں کہ مجھے اب یوسف کی ہواآرہی ہے اورمجھے ایسامحسوس ہوتاہے کہ اس کی ملاقات کے دن اب دروازہ پر کھڑے ہیں۔اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کوبھی اس وقت مدین کی طرف سے ٹھنڈی ہواآئی اورآپ نے فرمایا۔عَسٰى رَبِّيْۤ اَنْ يَّهْدِيَنِيْ سَوَآءَ السَّبِيْلِ۔مجھے امید ہے کہ اب میرارب مجھے اس منزل پر پہنچا دے گا۔جومیرے لئے خیر اوربرکت کاموجب ہوگی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعاسن لی اور جب وہ مدین کے چشمہ پر پہنچے تواس کے ارد گرد انہوں نے ایک جماعت دیکھی جو اپنے جانوروں کو پانی پلا رہی تھی۔او راس جماعت سے پرے کھڑی ہو ئی انہوں نے دوعورتیں دیکھیں جواپنے جانوروں کوپانی سے ہٹارہی تھیں تاکہ وہ لوگوں کے ہجوم میں گھس کر کہیں گم نہ ہوجائیں اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام ان عورتوں کی طرف بڑھے اوران سے کہا کہ مَاخَطْبُکُمَا تم دونوں کو کیا اہم کام درپیش ہے جس کا تمہیں فکرلاحق ہے۔خَطْبٌ کے معنے خاص حالت کے بھی ہوتے ہیں اور خَطْبٌ ہراہم امر کو بھی کہتے ہیں۔خواہ چھوٹاہویا بڑا۔(اقرب) ان دونوں نے کہا کہ ہماری عادت ہے کہ جب تک چرواہے پانی پلاکر اپنے جانوروں کوواپس نہ لے جائیں ہم پانی نہیں پلایاکرتیں۔کیونکہ ان اوباشوں کے گروہ میںملنا ہمیں پسند نہیں۔پھر انہوں نے خیال کیا کہ ہماری اس بات سے یہ نووارد ہمارے باپ یا ہمارے رشتہ داروں کی نسبت بدظنی کرے گا کہ وہ آپ کیوں نہیں آتے اور لڑکیوں کوکیوں بھیجتے ہیں۔اس لئے انہوں نے جھٹ یہ فقرہ اپنی پہلی بات پر زائد کردیا۔کہ ہماراصرف باپ ہے اوروہ