تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 204
یعنی ۱۔آمان کا کاہن اعظم ۲۔دوہرے خزانوں اوردوہرے گوداموں کا مدارالمہام۔۳۔سپاہ مصر کاڈائریکٹر ۴۔دارالحکومت تھیبس کے تمام کاریگروں اورصنّاعوں کاناظم و منصرم ("THE NILE AND EGYPTIAN CIVILIZATION"BY ALEXANDER MORET P۔334) اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں فرعونِ مصر کے بعد آمان دیوتاکابڑاکاہن سب سے زیادہ اثر رسوخ رکھتاتھا۔اس کافوج میں بھی دخل تھا اورمذہبی عمارات کی تعمیر کاکام بھی اس کے سپرد تھا۔جیمزہنری بریسٹڈ بھی اپنی کتاب ’’تاریخ مصر‘‘میں ھَمْ آمان کا ذکر کرتے ہوئے لکھتاہے۔HE (RAMSES II) DIVIDED THESE TROOPS INTO FOUR DIVISION, EACH NAMED AFTER ONE OF THE GREAT GODS: AMON, RE, PTAH AND SUTEKA, AND HIMSELF TOOK THE PERSONAL COMMAND OF THE DIVISION OF AMON۔یعنی رعمسیس دوم نے فوجوں کوچار حصوں میں تقسیم کیا اورہرحصہ فوج کو اپنے بڑے دیوتا ئوں آمان۔رع۔پتاح اور ستیخ میں سے کسی ایک کے نام سے موسوم کیا۔اس کے بعد وہ دستہ ءفوج جو آمان دیوتا کے نام پر تھا۔اس کی کمان اس نے خود سنبھال لی۔(ص ۴۲۵) ان حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں فرعون مصر کے بعد دوسرے درجہ پر آمان کاکاہن سمجھاجاتاتھا۔چونکہ آمان کو تمام دیوتائوں کا بادشاہ سمجھاجاتا۔اس لئے آمان کے کاہن کوبھی تمام مذہبی تنظیم کا رئیس اعلیٰ قرار دے دیاگیا۔اسے دوہرے خزانوںاور دوہرے گوداموں کامنصرم اور سپاہِ مصر کا ڈائریکٹر قرار دے دیاگیا۔اوراسے اس قدر سلطنت حاصل ہوئی کہ فرعونِ موسیٰ کی فوج میں ایک ڈویژن کانام ہی آمان کے نام پر رکھا گیا۔اورپھر اس وجہ سے کہ اس کے زیر انتظام تمام مذہبی عمار ات کی تعمیر ہواکرتی تھی اسے صنّاعوں کے رئیس اعلیٰ کاخطاب بھی دیاگیا۔تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں مصر میں ہر جگہ عالیشان مندر۔مقابر۔محلات اور کئی قسم کے بت اور