تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 205
مورتیاں بنائی جاتی تھیں اور یہ سب کام آمان دیوتا کے کاہن کی نگرانی میں ہی ہو اکرتا تھا۔اسی لئے اِسےGREAT CHIEF OF THE ARTIFICORS۔یعنی صنّاعوں کے رئیس اعلیٰ کا خطاب بھی دیاگیا۔(انسائیکلو پیڈیا بڑینیکا زیر لفظ مصر صفحہ۶۰) پس قرآن کریم نے جس شخص کو ھامان قراردیا ہے وہ کوئی فرضی وجود نہیں بلکہ ایک اہم تاریخی شخصیت ہے جسے مصر قدیم میں ھَمْ آمان یا ھَمْ آمون کہا جاتا تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بائیبل نےموسیٰ ؑ اور فرعون کے حالات بیان کرتے ہوئے ہامانؔ کا کہیں ذکر نہیں کیا لیکن جبکہ تاریخی شواہد نے ہمیں ایک ایسے وجود کا پتہ دے دیا ہے جو فرعونِ مصر سے دوسرے درجہ پر سمجھا جاتا تھا اور جس کے نام پر اس نے ایک بڑا بھاری لشکر بھی رکھا ہوا تھا اور جس کے سپرد تمام مذہبی عمارات کی تعمیرکا بھی کام تھا تو بائیبل میں اس کا ذکر نہ آنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ قرآن کریم نے نعوذ باللہ کوئی غلط بات کہی ہے بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بائیبل جوموسیٰ ؑ کے زمانہ میںلکھی گئی اور جواس زمانہ کے صحیح واقعات بیان کرنے کی دعویدار ہے اس نے تو ایک تاریخی غلطی کا ارتکاب کیا اور ھامان جیسی شخصیت کو نظر انداز کردیا۔لیکن قرآ ن کریم نے جو تورات کے دوہزار سال کے بعد نازل ہوا تھا اس نے تورات کی اس غلطی کی طرف اشارہ کردیا اور بتا دیا کہ صحیح بات وہ ہے جو ہم بیان کر رہے ہیں وہ بات صحیح نہیں جو بائیبل نے بیان کی ہے۔اسی وجہ سے قرآن کریم نے اس سورۃ کے شروع میں ہی فرما دیا تھا کہ تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ۔یہ آیات ایک ایسی کتاب کی آیات ہیں جو تمام حقائق کو روشن کرنے والی اور تمام اسرار کو کھولنے والی ہے اورپھر فرما دیا تھا کہنَتْلُوْا عَلَيْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۔ہم بائیبل کے واقعات کو نہیں دوہرا رہے بلکہ موسیٰ اور فرعون کے زمانہ کے سچے واقعات بیان کر رہے ہیں۔مگر اس سے فائدہ صرف وہی لوگ اٹھا سکتے ہیں جو ان باتوں پر یقین رکھتے ہیں۔وہ لوگ جن کا کام صرف اعتراض کرنا ہے وہ اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھائیں گے۔چنانچہ دیکھ لو سیلؔ اور وھیریؔ نے اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا اور انہوں نے لکھ دیا کہ اس جگہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تاریخی غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔انہوں نے مسیح ؑسے پانچ سو سال پہلے گزرے ہوئے ایک ایرانی بادشاہ کے وزیر ہامان کوموسیٰ ؑ کا ہم عصر قرار دے دیا مگر تاریخی کتب نے ظاہر کردیا کہ ان کا یہ اعتراض بالکل غلط ہے اور سچی بات وہی ہے جو قرآن نے بیان کی۔