تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 183

سُوْرَۃُ الْقَصَص مَکِیَّةٌ سورئہ قصص۔یہ سورۃ مکی ہے وَھِیَ مَعَ الْبَسْمَلَۃِ تِسْعٌ وَثَمَانُوْنَ اٰیَۃً وَتِسْعَۃُ رَکُوْعَاتٍ اوربسم اللہ سمیت اس کی نواسی(۸۹)آیات ہیں اورنو(۹)رکوع ہیں۔وقت نزول حسنؓ اورعکرمہؓ کہتے ہیں کہ یہ سورۃ مکی ہے۔ریورنڈ وہیری بھی اس سورۃ کومکی قراردیتے ہیں۔لیکن مقاتل کے نزدیک اس میں چار آیات مدنی ہیں۔یعنی اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ يُؤْمِنُوْنَسے لے کر سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ١ٞ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ تک (آیت ۵۳ تا۵۶)۔بعض کہتےہیںکہ یہ آیات مدینہ میں نہیں بلکہ مکہ اورجحفہ کے درمیان اتری تھیں۔اور حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیںکہ مکہ اورجحفہ کے درمیان نہیں بلکہ ہجرت مدینہ کے وقت عین جحفہ کے مقام پران آیات کانزول ہواتھا۔لیکن ابن سلام کہتے ہیں کہ ہجرت کے وقت جحفہ میں صرف اِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ والی آیت نازل ہوئی تھی۔باقی تمام سورۃ مکی ہے(بحرِ محیط)۔عمرا بن محمد کہتے ہیں کہ یہ سورۃ مکہ سے مدینہ کی طرف سفر کے وقت نازل ہوئی تھی۔اس خیال کو اگر صحیح تسلیم کرلیاجائے تب بھی یہ سورۃ مکی ہی سمجھنی چاہیے کیونکہ ابھی ہجرت مکمل نہیں ہوئی تھی۔ریورنڈ وہیری کاخیال ہے کہ عمر ابن محمد کایہ خیال اس وجہ سے ہے کہ اس سورۃ میں ذکرکیاگیاہے کہ اِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍکہ اللہ تعالیٰ آپ کو پھر مکہ واپس لائے گا(تفسیر القرآن للوہیری)۔مگر وہیری کایہ استدلال بہت کمزور ہے۔صحابہؓ تووقتِ نزول کی بنیاد عام طور پر کسی تاریخی گواہی پررکھتے ہیں۔پادری وہیری صاحب چونکہ اس بات کے قائل نہیں کہ قرآن کریم میںکوئی سچی پیشگوئیاں ہیں اس لئے وہ اپنے عقیدہ کے مطابق خود بخود کوئی وجہ تلاش کرلیتے ہیں حالانکہ جس کتاب میں پیشگوئیاںہوتی ہیں وہ تو بعض دفعہ سوسوسال بعد کی خبر دے دیتی ہے۔چنانچہ اسی سورۃ میں یہ ذکر کیاگیاہے کہ اللہ تعالیٰ یہود کی طرح جن کو اس نے فرعون پر غالب کردیاتھا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع کو بھی مکہ والوں پرغالب کردے گا۔(آیت ۶) اور یہ بات ہجرت کے آخری سالوں میں جاکر پوری ہو ئی۔اگرمذکورہ بالاآیت سے وہ استدلال ٹھیک ہے جو کہ وہیری نے کیا ہے توپھر فتح مکہ کے مضمون سے یہ نتیجہ نکالناچاہیے کہ یہ سورۃ فتح مکہ کے وقت نازل ہوئی ہے۔مگریہ دونوں استدلال غلط ہیں۔اصل میں یہ دونوں پیشگوئیاں ہیں جو عالم الغیب خدا نے کئی سال پہلے مکہ میں بیان کردی تھیں۔اورمختلف آیات کے مضمونوں