تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 184

سے تنزیل کا وقت نکالناایک ڈھکونسلہ ہے۔جیساکہ پہلے با ربار بیان ہوچکا ہے صحابہؓ عام طور پر وقتِ نزول تاریخ کی گواہی کی وجہ سے مقرر کرتے تھے نہ کہ آیتوں کے مضمون کی وجہ سے۔ہم توکہتے ہیں کہ ایک مانی ہوئی مکی سورۃ میں لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ کاآنابتاتاہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مکہ میں ہی تھے کہ آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے ہجرت کی خبر دی اورپھر فتح مکہ کی بھی خبردی۔رَآدُّکَ کے الفاظ بتاتے تھے کہ آپؐ مکہ سے جائیں گے اور اِلیٰ مَعَادٍ کے الفاظ بتاتے تھے کہ آپ ؐ مکہ واپس آئیں گے۔پس یہ آیت قرآن کریم کی صداقت کاایک بیّن ثبوت ہے۔تعلق و ترتیب علامہ ابن حیان لکھتے ہیں کہ سورۃ نمل کاسورئہ قصص سے یہ تعلق ہے کہ سورۃ نمل کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی حمدکرنے کاحکم دیاتھا اورپھر فرمایاتھا کہ سَیُرِیْکُمْ اٰیٰتِہٖ وہ تم کو اپنے نشانات دکھائے گا۔اوران نشانات سے مراد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات تھے جن کو خدا تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کیا کیونکہ معجزات ظاہرکرنے والا درحقیقت خدا تعالیٰ کاوجود ہی تھا۔پس اگر وہ انبیاء کے معجزات کو اپنانشان قراردے دے تویہ درست ہوگا۔غرض اللہ تعالیٰ نے سورئہ نمل میں جو نشانات دکھانے کاوعدہ کیاتھا۔اس کے ثبوت میں اس نے سورئہ قصص نازل کی اور اس کے شروع میں ہی فرما دیاکہ تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ اس سورۃ کی آیات ایک مدلّل کتاب کی آیات ہیں۔اور اس طرح کفار کے سامنے اس نے اپنے وعدہ کی صداقت کے ثبوت میں قرآن کریم کے کتاب مبین ہونے کے نشان کو پیش کردیاکیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام معجزات میں سے سب سے بڑامعجزہ قرآن کریم ہی ہے۔لیکن مجھے علامہ ابن حیان کی اس تشریح سے کچھ اختلاف ہے۔میرے نزدیک یہ تو صحیح ہے کہ سورئہ نمل کے آخر میں نشانات دکھانے کا ذکر ہے لیکن یہ درست نہیں کہ اس کے ثبوت میں قرآن کریم کے اعجاز کو پیش کیاگیاہے۔بلکہ درحقیقت اس سورۃ میں ان نشانات میں سے بعض کا ذکرکرتے ہوئے ان کی وضاحت کی گئی ہے جن کے دکھانے کاسورئہ نمل میں وعدہ کیاگیاتھا۔مثلاً مکہ والوں کے مظالم کے نتیجہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کی خبردی گئی ہے اور پھر بتایاگیا ہے کہ ایک دن آپ مکہ فتح کریں گے۔اورپھر اسی شہر میں فاتحانہ طورپر داخل ہوں گے۔جس میں سے آپ کو نکالاجائے گا۔گویاجو وعدہ سورئہ نمل میں کیاگیاتھا۔اسے سورئہ قصص میں پوراکردیاگیاہے۔اوران نشانات کو بیان کردیاگیاہے جن کے ذریعہ کفار پرحجت تمام ہونی تھی۔اس سورۃ کاسورۃ نمل سے دوسراتعلق یہ ہے کہ سورۃ نمل کے آخر میں فرمایاتھا وَاَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا يَهْتَدِيْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ۔یعنی مجھے حکم دیاگیاہے کہ میں تمہیں قرآن کریم