تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 178
گا۔اوریہ نہیں دیکھے گاکہ ان کے عمل حقیر تھے۔بلکہ وہ اپنے فضل سے انہیں دائمی نجات عطافرمائے گا۔ہاں جولوگ بدیاں کرتے تھے ان کو آگ میں اوندھے منہ گرادیاجائے گا۔اورکہا جائے گاکہ کیاتمہارے عملوں کے مطابق تم کوجزانہیں مل رہی ؟ یعنی بدی کی سزا بہرحال عمل کے مطابق ہوگی زیادہ نہیں ہوگی۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ اس بارہ میں وضاحت کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْء ٍ(الاعراف :۱۵۷)میری رحمت ہرچیز پر غالب ہے۔حتی کہ شدید ترین مخالف کی مخالفت اوردشمنی پر بھی غالب ہے۔پس اس آیت کے ماتحت بد سے بدترانسان بھی خدا تعالیٰ کی رحمت کامستحق ہوجائے گا اورآخر جنت کے دروازے اس کے لئے کھل جائیں گے۔یہ مضمون تو اخروی حیات کے لحاظ سے ہے۔دنیوی نقطہ نگاہ سے اس آیت میں یہ بیان کیاگیاہے کہ جوافراد اسلام کے دوبارہ احیاء کے لئے قربانیاں کریں گے انہیں اپنی ان قربانیوں کاجب بدلہ ملے گا تووہ ایساحیرت انگیزہوگا کہ اس کے مقابلہ میں ان کی قربانیاں کوئی بھی حیثیت نہیں رکھیں گی چنانچہ دیکھ لو بیشک حضرت ابو بکرؓ۔حضرت عمرؓ۔حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ نے اسلام کے لئے بڑی قربانیاں کیں۔لیکن آج و ہ دوبارہ زندہ ہوجائیں اور وہ دنیا کے گلی کوچوں میں سے گذرتے ہوئے سنیں کہ حضر ت ابو بکر ؓ نے یوںفرمایا ہے۔حضرت عمرؓنے یوں فرمایا ہے حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ نے یوں فرمایا ہے۔اوردوسری طر ف وہ یہ دیکھیں کہ کچھ لوگ اپنے ہاتھوں میں لٹھ لئے چلے جارہے ہیں اورغصہ سے ان کی آنکھیں سرخ ہورہی ہیں۔اورجب ان سے پوچھا جاتاہے کہ کیاوجہ ہے تووہ جواب دیتے ہیں کہ حضرت ابو بکرؓ کو فلاں شخص نے برابھلاکہاہے یاحضرت عمرؓ کو برابھلاکہاہے یاحضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کو برابھلاکہاہے تومیں سمجھتاہوں کہ ان کو اپنی قربانیاں اس لازوال عزت اورشہرت کے مقابلہ میں بالکل حقیر نظر آنے لگیں گی۔اوروہ خیال کرنے لگیں گے کہ ہم نے کوئی قربانی نہیں کی۔حدیثوں میں آتاہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ایک صحابیؓ شہیدہوئے۔آپ نے ان کے بیٹے کو دیکھا کہ وہ سر نیچے ڈالے ہوئے افسردگی کی حالت میں جارہاہے۔آپ نے اس سے پوچھاکہ کیا بات ہے۔اس نے کہا یارسول اللہ :میراباپ شہیدہوگیاہے اورپیچھے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ان کے خیال سے میں متفکر ہوں۔آپؐ نے فرمایا۔اگرتمہیں علم ہوتاکہ تمہارے باپ سے اللہ تعالیٰ نے کیا سلوک کیاہے توتم اس طرح افسرد ہ نہ ہوتے۔پھر آپؐ نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے تمہارے باپ کی روح کو اپنے سامنے حاضر کیا اور کہا۔میں تم سے بہت خوش ہوں۔تم جوکچھ مانگناچاہتے ہو مانگو۔میں تمہاری ہرخواہش کو پوراکرنے کے لئے تیار ہوں۔اس پر تمہارے باپ نے کہا کہ خدایا میری صرف اتنی خواہش ہے کہ مجھے دوبارہ زندہ کرکے دنیا میں بھیجاجائے تامیں پھر اسلام کی