تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 177

وُجُوْهُهُمْ فِي النَّارِ١ؕ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۰۰۹۱ دوزخ میں اوندھا کرکے گرادیاجائے گا۔اورکہا جائے گاکہ کیا تمہاری جزا تمہارے عمل کے مطابق نہیں ؟ حلّ لُغَات۔کُبَّتْ۔کُبَّتْ کَبَّ کَبًّا کے معنے ہیں قَلَبَہُ عَلیٰ رَاْسِہٖ۔برتن کو سر کے بل اُلٹا دیا۔کَبَّ زَیْدًاعَلیٰ وَجْھِہٖ وَلِوَجْھِہٖ کے معنے ہیں صَرَعَہٗ زیدکو پچھاڑ دیا (اقرب)پس کُبَّتْ کے معنے ہوں گے۔ان کو الٹایا جائے گایاپچھاڑاجائے گا۔تفسیر۔فرماتا ہے۔تم میں سے جو شخص نیک اعمال بجالائے گااسے اپنی نیکیوں سے بہت بہتر بدلہ ملے گا او رایسے ہی لوگ اس دن کی گھبراہٹ سے محفوظ رہیں گے۔لیکن جو لوگ برائیوں میں ملوث ہوں گے وہ جہنم میں اوندھے منہ گرادیئے جائیں گے۔اوران سے پوچھا جائے گا کہ بتائو کیا یہ جزاتمہارے اعمال کے مطابق ہے یانہیں۔اس آیت میں اسلامی تعلیم کاایک بڑااہم مسئلہ بیان کیاگیاہے۔آریہ مذہب نجات کے بارہ میں یہ نظریہ پیش کرتاہے کہ اللہ تعالیٰ جب نیکیوں کی جزادیتاہے تووہ ہرایک روح کاکوئی نہ کوئی گناہ رکھ لیتا ہے جس کی سزااسے بعد میں دی جاتی ہے۔وہ پہلے انسانی روح کو نجات دے دیتاہے اور اسے جنت میں داخل کردیتاہے۔لیکن کچھ عر صہ کے بعد پھر اس گناہ کی وجہ سے جواس نے کیاہوتاہے اورجس کی سزاابھی اسے نہیں ملی ہوتی پھر اسے مختلف جونوں کے چکر میں ڈال دیاجاتاہے اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتاجاتاہے گویانعوذ باللہ خدا تعالیٰ بھی ان ہندومہاجنوں کی طرح ہے جو قر ض کاایک حصہ تووصول کرلیتے ہیں لیکن کچھ تھوڑاساباقی رہنے دیتے ہیں تاکہ سودکاسلسلہ جاری رہے۔اور کچھ عرصہ کے بعد وہ پھر سود سمیت ایک بڑی رقم کامطالبہ کردیتے ہیں۔ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے بھی نعوذ باللہ دنیا کا سلسلہ اسی رنگ میں جاری کیاہواہے۔کہ پہلے تووہ نیک اعمال کی انسان کو جزادے دیتاہے اورپھر کسی برے عمل کی سزا میں اسے دنیا میں مختلف جونوں کی شکل میں لوٹاتارہتاہے۔مگرقرآن کریم اس عقیدہ کوکلیۃً ردّکرتاہے۔وہ کہتاہے کہ روح اور مادہ کا خالق خداجتنی روحیں اورجتنامادہ جب چاہے صرف ایک کُن کہنے سے پیداکرسکتاہے۔اسے روحوں کے ساتھ آریوں کابتایاہواتمسخر کرنے کی ضرورت نہیں۔دوسرے وہ یہ بھی بتاتاہے کہ گوانسان کی نیکی محدود ہے مگراس کاارادہ محدود نہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ انسان کو اس کے عمل سے بہت زیادہ بدلہ دےگا۔اورسزاکے دن خواہ دنیا میںآئے یاآخرت میں مومنوں کو محفوظ رکھے