تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 166

جس طرح اب جمع ہوئے ہیں تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک تنبیہ ہوتی ہے اوراس بات کی طرف اشار ہ ہوتاہے کہ ان لو گوں کے لئے جو سرکشی سے باز نہ آئیں عذاب مقرر ہوچکا ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس پیشگوئی کو پوراکرنے کے لئے آپ کے دل میں تحریک کی کہ آپ ایک عام وباء کے لئے دعاکریں چنانچہ آپ اپنے ایک عربی قصیدہ میں جو ۱۸۹۴؁ء میں شائع ہوافرماتے ہیں ؎ فَلَمَّا طَغَی الْفِسْقُ الْمُبِیْدُ بِسَیْلِہٖ تَمَنَّیْتُ لَوْ کَانَ الْوَبَآئُ الْمُتَبِّرٗ فَاِنَّ ھَلَاکَ النَّاسِ عِنْدَ اُوْلِی النُّھٰی اَحَبُّ وَ اَوْلیٰ مِنْ ضَلَالٍ یُّخَسِّرٗ یعنی جب ہلاک کردینے والا فسق ایک طوفان کی طرح بڑھ گیاتو میں نے خدا سے چاہا کہ کاش ایک وباء پڑے جولوگوں کو ہلاک کردے۔کیونکہ عقلمندوں کے نزدیک لوگوں کامرجانا اس سے زیادہ پسندیدہ اورعمدہ سمجھاجاتاہے کہ وہ تباہ کردینے والی گمراہی میں مبتلاہوجائیں۔اس کے بعد ۱۸۹۷؁ء میں آپ نے اپنی کتا ب ’’سراج منیر‘‘ میں لکھا کہ ’’ اس عاجز کوالہام ہواہے یَامَسِیْحَ الْخَلْقِ عَدْوَانَا یعنی اے خلقت کے لئے مسیح!ہماری متعدی بیماریوں کے لئے توجہ کر۔‘‘ پھر فرماتے ہیں:۔’’ دیکھو یہ کس زمانے کی خبریں ہیں اورنہ معلوم کس وقت پور ی ہوں گی۔ایک وہ وقت ہے جو دعاسے مرتے ہیں اوردوسراوہ وقت آتاہے کہ دعاسے زندہ ہوں گے۔‘‘ (سراج منیرروحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۷۰،۷۱) جس وقت یہ آخر ی پیشگوئی شائع ہوئی اس وقت طاعون صرف بمبئی میں پڑی تھی اورایک سال رہ کر ہٹ گئی تھی۔اورلو گ خوش تھے کہ ڈاکٹروں نے اس کے پھیلنے کو روک دیا۔مگرخداتعالی کی خبریں اس کے خلاف تھیں چنانچہ جب لو گ اس مرض کے حملہ کو ایک عارضی حملہ خیال کررہے تھے اورپنجاب میں صرف ایک دوگائوں میں ہی یہ مرض نہایت قلیل طور پر پائی جاتی تھی باقی سب علاقہ محفوظ تھا او ربمبئی کی طاعون بھی بظاہر دبی ہوئی معلوم ہوتی تھی اس وقت آپ نے ایک اور اعلان کیااوراس میں بتایا کہ :