تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 165

مخالفت بڑھ جائے گی تو فیُرْسِلُ اللّٰہُ عَلَیْھِمُ النَّغَفَ فِی رِقَابِھِمْ (مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجال وصفتہٗ)۔اللہ تعالیٰ مخالفین کی گردنوں میںایک پھوڑا پیدا کرے گا جس سے ان کی ہلاکت واقعہ ہوگی۔ان دونوں حدیثوں کو ملا کر دیکھا جائے توا ن سے صاف طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ دابۃ الارض جس کے خروج کی خبر دی گئی ہے وہ درحقیقت طاعون کا ہی مرض ہے جو حضرت بانی سلسلہ کے زمانہ میں پھیلا اور جس سے لاکھوں لوگ لقمئہ اجل بن گئے۔چونکہ یہ مرض ایک کیڑے سے پیدا ہوتا ہے جو زمین سے انسا ن کے جسم میں داخل ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ہی گردن یا بُنِ ران میں ایک خطرناک قسم کا پھوڑا بھی نکلتا ہے جو مہلک ہوتا ہے اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دابۃ الارض بھی قراردیا۔اور نغف کی بیماری بھی اس کا نا م رکھا۔اور چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دابۃ الارض کا خروج آخری زمانہ کی علامات میں سے قراردیا ہے اس لئے لازماًوَاِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْھِمْ سے وہی لوگ مراد ہیں جو مسیح موعود کی تکذیب کرنے والے ہوںگے۔اور جو اپنی روحانی نابینائی کی وجہ سے نہ آسمانی نشانات کو دیکھیں گے۔نہ روحانی شنوائی کے فقدان کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے کلام کو سنیں گے۔اور نہ روحانی حیات سے کلیۃً محروم ہونے کی وجہ سے نیکی کاکو ئی فعل ان سے سرزد ہو گا۔ایسے لوگ اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی گرفت میں آجائیں گے۔اور ایک زمینی کیڑا ان کی ہلاکت کے لئے ان پر مسلط کیا جائے گا۔چونکہ وہ بھی ایک رنگ میں زمینی کیڑے بن چکے ہوںگے۔اس لئے خدا تعالیٰ بھی ان کی سزا کے لئے ایک زمینی کیڑا ہی ان پر مسلط کرےگا اور انہیں آیاتِ الہٰیہ پر ایمان نہ لانے کی سزا دے گا۔غرض یہ ایک بڑی بھاری پیشگوئی ہے جو بانی سلسلہ احمدیہؐ کے زمانہ میں پوری ہوئی۔اور جس کی طرف خود بانی سلسلہ احمدؐیہ پیشگوئیاں بھی بڑی وضاحت سے اشارہ کررہی تھیں چنانچہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق رمضان کی تیرہ تاریخ کو چاند گرہن اور اٹھائیس تاریخ کو سورج گرہن ہوا تو اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کو بتایاگیا کہ اگر لوگوں نے ا س نشان سے فائدہ نہ اٹھایا اورتجھے قبول نہ کیا توان پرایک شدید عذاب نازل ہوگا۔چنانچہ اس بار ہ میں آپ نے اپنی کتاب ’’نور الحق ‘‘ میں پیشگوئی کرتے ہوئے فرمایا:۔’’وَحَاصِلُ الْکَلَامِ اَنَّ الْخَسُوْف وَالْکَسُوْفَ اٰیَتَانِ مُخَوِّفَتَانِ وَاِذَااجْتَمعَافَھُوَ تَھْدِیْدٌ شَدِیْدٌ مِنَ الرَّحْمٰنِ۔وَاِشَارَۃٌ اِلیٰ اَنَّ الْعَذَابَ قَدْتَقَرَّرَ وَاُکِّدَ مِنَ اللّٰہِ لِاَھْلِ الْعُدْوَانِ۔‘‘ (نورالحق روحانی خزائن جلد ۸ حصہ دوم ص۲۳۲) یعنی کسوف و خسوف خدا تعالیٰ کی طر ف سے دوڈرانے والے نشان ہیں۔اورجب یہ اس طرح جمع ہوجائیں