تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 167
’’ایک ضروری امر ہے جس کے لکھنے پر میرے جوشِ ہمدر دی نے مجھے آمادہ کیاہے۔اورمیں خوب جانتاہو ں کہ جو لوگ روحانیت سے بے بہرہ ہیں اس کوہنسی اور ٹھٹھے سے دیکھیں گے مگر میرافرض ہے کہ میں اس کو نوع انسان کی ہمدردی کے لئے ظاہر کروں۔اور وہ یہ ہے کہ آج جو ۶؍فروری ۱۸۹۸ ء روز یک شنبہ ہے میں نے خواب میں دیکھا کہ خدا تعالیٰ کے ملائک پنجاب کے مختلف مقامات میں سیاہ رنگ کے پودے لگارہے ہیں۔اوروہ درخت نہایت بدشکل اور سیاہ رنگ اورخوفناک اورچھوٹے قد کے ہیں۔میں نے بعض لگانے والوں سے پوچھا کہ یہ کیسے درخت ہیں تو انہوں نے جواب دیاکہ یہ طاعون کے درخت ہیں جو عنقریب ملک میں پھیلنے والی ہے۔میرے پر یہ امر مشتبہ رہاکہ اس نے یہ کہا کہ آئندہ جاڑے میں یہ مرض پھیلے گا یایہ کہ اس کے بعدکے جاڑے میں پھیلے گا۔لیکن نہایت خوفناک نمونہ تھا جومیں نے دیکھا۔اورمجھے اس سے پہلے طاعون کے بارہ میں الہام بھی ہوااوروہ یہ ہے۔اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ۔اِنَّہٗ اٰوَی الْقَرْیَۃَ۔یعنی جب تک دلوں کی وبائے معصیت دور نہ ہوگی تب تک ظاہری وباء بھی دور نہیں ہوگی۔‘‘ (ایام الصلح روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۳۶۰،۳۶۱) اس اشتہار کے آخر میں آپ نے اپنے چند فارسی اشعار بھی لکھے جویہ ہیں کہ ؎ گرآں چیزے کہ مے بینم عزیزاں نیز دیدندے ز دنیا توبہ کردندے بچشمِ زار وخوں بارے خورِ تاباں سیہ گشت است از بدکاری مردم زمیں طاعوں ہمے آرد پئے تخویف وانذارے بہ تشویش ِ قیامت ماند ایں تشویش گربینی علاجے نیست بہرِ دفع آں جز حسن کردارے من از ہمدردی ات گفتم توخود ہم فکر کن بارے خرد از بہرایں روز است اے داناو ہوشیارے (ایام الصلح روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۳۶۳) یعنی اگروہ چیز جسے میں دیکھ رہاہوں اَور دوست بھی دیکھتے تو وہ دنیا سے روروکرتوبہ کرتے۔لوگوں کی