تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 13

ہے۔اورمومن اپنے مولیٰ کے کلام کو پڑھنے کے عادی ہوتے ہیں اوران کا پڑھنا ان کے سننے سے زیادہ ہوتاہے۔مثلاً دن میں اگر وہ ایک پارہ کی تلاوت کرتے ہیں توشاید ایک ربع سنتے ہیں۔پس ان کا علم زیادہ ترصفت کتاب سے آتاہے۔اس وجہ سے ان کے لئے صفت کتاب زیادہ مبین ہوتی ہے۔پس اول الذکر مقام پر قرآن کے ساتھ مبین کو لگایا اورثانی الذکر مقام پر کتاب کے ساتھ۔اوریہ جوآگے پیچھے ان لفظوںکو کیاگیاہے اس میں یہ حکمت ہے کہ کافر کاپہلا تعلق قرآن سے ہوتاہے۔یعنی پہلے وہ الفاظ سنتاہے۔پھر اس کا د ل صاف ہوتو وہ اسے اپنے اوپر واجب کرلیتا ہے۔اورمومن اسے پہلے واجب سمجھے ہوئے ہوتاہے پھر اس کے بعد وہ اس کی قرأت کی طرف توجہ کرتاہے۔پس جس چیز کو جس سے زیاد ہ قرب تھا اس کے قریب اس لفظ کو رکھ دیاگیاہے۔پھر میرے نزدیک سورئہ حجر میں کتاب کالفظ پہلے اور قرآن کالفظ بعد میں اورسورئہ نمل میں قرآن کا لفظ پہلے اورکتاب کا لفظ بعد میں اس لئے بھی رکھا گیاہے کہ سورئہ حجر میں کتاب کی صفت سے زیادہ اس کے قرآن ہونے کی صفت پر زور دیاگیاہے۔اور چونکہ کسی چیز کادرجہ اورمقام بیان کرتے وقت چھو ٹی چیز کو پہلے بیان کیا جاتا ہے اوربڑی کو بعد میں۔اس لئے سورئہ حجر میں کتاب کو پہلے اورقرآن کو بعد میں بیان کیا گیاہے۔لیکن اس سورۃ میں چونکہ قرآن کریم کی زبانی تلاوت سے زیادہ اس کی تحریر کے اثر کونمایاں کرناتھا۔اس لئے اس میں قرآن کالفظ پہلے رکھا گیا اورکتاب کابعد میں۔گویا قرآن اورکتاب یہ دونام نہیں بلکہ دوصفات ہیں جوقرآن کریم کی بیان کی گئی ہیں اوربتایاگیاہے کہ یہ کتاب بھی ہے اورقرآن بھی۔کتابٌ میں ا س کے تحریر میں آنے کی طرف اشارہ کیاگیاہے اورقراٰن میں اس کے بکثرت پڑھے جانے کی خبر دی گئی ہے۔اوریہ دونوں صفات یکجائی طورپرصرف قرآن کریم میں ہی پائی جاتی ہیں۔یعنی یہ کتاب تحریر میں بھی موجود ہے اوراس کثر ت سے اس کی تلاو ت بھی کی جاتی ہے کہ دنیا میں اور کوئی کتاب نہیں جس کی اس کثرت سے تلاوت کی جاتی ہو۔بیشک تورات اور انجیل بھی پڑھی جاتی ہیں مگر اول تووہ اس کثرت کے ساتھ نہیں پڑھی جاتیں جس کثرت کے ساتھ قرآن کریم پڑھاجاتاہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ایسے عشاق عطافرمائے ہیں جو اس کے ایک ایک لفظ کو حفظ کرتے اوررات دن خود بھی پڑھتے اور دوسروں کو بھی سناستے رہتے ہیں۔لیکن تورات او رانجیل کادنیا میں کوئی حافظ نہیں۔ویدوں کا ایک ایک لفظ یاد رکھنے والا دنیا میں کوئی فرد نہیں۔یہی حال ژند اوراوستاؔ کاہے۔صرف قرآن کریم ہی ایک ایسی کتاب ہے جسے کتابی صورت میں بھی پڑھاجاتاہے اورحفظ بھی کیا جاتاہے۔اورپھر نمازوں میں بھی پڑھاجاتاہے۔پس چونکہ اس سورۃ میں قرآن کریم کی زبانی تلاوت سے زیادہ اس کی تحریر کے اثر کو زیادہ نمایاں کرناتھا۔اس لئے اس سورۃ میں قرآن کالفظ پہلے اور