تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 159

کے نزول کے بعد عیسائی ہرجگہ غالب آگئے اوریہودی جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے منکر تھے ہرجگہ مغلوب ہوگئے مگرعیسائیت کاغلبہ چونکہ اسلام کے لئے ایک مستقل خطرہ کا باعث تھااورمسلمانوں پر اشاعت اسلام کی بڑی بھاری ذمہ داریاں عائد ہونے والی تھیں اس لئے عیسائیت کے غلبہ کی خبر دیتے ہی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نصیحت فرمائی کہ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِيْنِ۔تمہاراکام یہ ہے کہ تم اللہ پر توکل کرتے ہوئے۔اپنے دین کی اشاعت کرتے چلے جائو کیونکہ گوعیسائیت اوریہودیت کے باہمی نزاع میں عیسائیت حق پر ہے مگرحقِ مبین صرف اسلام کے پاس ہی ہے اس لئے تمہار اکام یہ ہے کہ تم اسلام کی اشاعت کے لئے ہرقسم کی تدابیر کام میں لائو اوراللہ تعالیٰ پر یقین رکھو۔کہ وہ تمہیں ضرور کامیاب کرے گا۔اوراسلام کاجھنڈادنیا کے تمام جھنڈو ں سے اونچا لہرائے گا۔مگر افسوس ہے کہ اس زمانہ میں مسلمانوں نے توکل کانہایت غلط مفہوم سمجھ لیا ہے۔وہ خیال کرتے ہیں کہ توکل کامفہوم یہ ہے کہ انسان کسی تدبیر سے کام نہ لے اوراپنے تمام کاموں کی سرانجام دہی خدا تعالیٰ پر چھوڑ دے۔لیکن تعجب ہے کہ وہ دین کے معاملہ میں تو توکل ظاہر کرتے ہیں۔لیکن دنیا کے معاملہ میں کبھی توکل نہیں کرتے۔کبھی کسی کاعزیز بیمار ہوجائے توتم یہ نہیں دیکھو گے کہ وہ خاموش ہوکرگھر میں بیٹھ رہے اورکہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرتاہوں وہ خود اسے اچھا کردے گا۔بلکہ وہ فوراً دوائی لینے کے لئے ہسپتال کی طرف دوڑے گا۔وہ کبھی نہیں کہے گاکہ بھلا ملیریامیراکیابگاڑ سکتاہے یاہیضہ مجھے کیا کرسکتاہے یاطاعون مجھے کیانقصان پہنچاسکتی ہے و ہ فوراً علاج کرے گا۔اورڈاکٹروں کی فیسوں پرروپیہ بھی خرچ کرے گا۔اوراس معاملہ میں توکل سے کام لینے کی بجائے تدبیر سے کام لے گا اسی طرح کبھی تم نہیں دیکھو گے کہ کوئی لڑکاسکول میں داخل ہوتونہ کتابیں خریدے نہ پڑھائی کرے اور یہی کہتارہے کہ اللہ مجھے پاس کردے گا۔میں اس پر سچے طور پر توکل کرتاہوں۔یاکسی کو اپنے لئے مکان کی ضرورت ہوتو نہ اینٹیں مہیاکرے۔نہ چونا خریدے۔نہ گارابنوائے نہ مزدور اورمستر ی بلوائے اورکہے کہ مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں یہ تردّدکروں۔اللہ تعالیٰ خود مکان بنادے گا۔یامثلاً کھانے کی ضرورت ہوتو بیوی کھاناتیار نہ کرے اورشام کو جب خاوند گھر آئے اورپوچھے کہ کھاناتیار ہے تووہ کہے کہ مجھے کھانا تیار کرنے کی کیاضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہرجاندار کو روزی پہنچاناہے وہ خود ہمیں کھاناپہنچائے گا۔اب کیاتم سمجھتے ہوکہ خاوند اس کی بات سن کریہ کہے گاکہ میری بیوی نے بڑاتوکل کیا۔وہ یقیناًاس پر ناراضگی کااظہار کرے گا۔بلکہ ایک غیر تعلیم یافتہ گنوارتو کچھ تعجب نہیں کہ دوچار سونٹیاں بھی رسید کردے۔مگراس قسم کاتوکل لوگوں کودین کے معاملہ میں فوراً یادآجاتاہے۔ہم اپنی روٹی کے لئے توکل نہیں کرتے۔ہم اپنے مکان کے لئے توکل نہیں کرتے۔ہم اپنی ملازمت کے لئے توکل نہیں کرتے۔ہم اپنے دوسرے