تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 158

کو ناجائز قراردیتے ہیں اورعیسائی اس ولادت کوروح القدس کا کرشمہ قرار دیتے ہیں۔قرآن کریم یہود اور نصاریٰ کے اس باہمی نزاع کافیصلہ کرتے ہوئے نہایت واضح الفاظ میں اعلان فرماتا ہے کہ وَ الَّتِيْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰيَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ( الانبیاء :۹۲) یعنی حضرت مریم نے اپنے تمام سوراخوں کو گناہ سے محفوظ رکھاتھا۔پس ان پر بدکاری کاالزام لگاناایک شرمناک افتراء ہے۔ان کوجوحمل ہواتھا وہ درحقیقت ایک پاک روح تھی جو ہم نے خود اس کے اندر نفخ کی تھی۔اسی طرح حضرت مسیح ؑ کے دعویٰ مسیحیت کو لو۔تویہودی تو سرے سے ہی آپ کی رسالت کے منکر ہیں۔اور عیسائی آپ کو خدا تعالیٰ کارسول تسلیم کرنے کی بجائے خدا تعالیٰ کابیٹاتصورکرتے ہیں۔اسلام ان دونوں نظریات کے خلاف ایک صحیح اور درست عقیدہ دنیاکے سامنے پیش کرتاہے اوربتاتاہے کہ یہود بھی غلطی پر ہیں جوحضرت مسیح ؑ کے کلّی طورپر منکرہیں۔اورعیسائی بھی غلطی پر ہیں جو ان کو خداتسلیم کرتے ہیں۔سچی بات صرف یہی ہے کہ حضرت مسیح ؑ بنی اسرائیل کی طرف صرف رسول بناکربھیجے گئے تھے (آل عمران آیت ۵۰)۔اسی طرح یہودی حضرت مسیح ؑ کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ مصلوب ہوکر لعنتی بنے (استثناء باب ۲۳ آیت ۲۱)۔اور عیسائی یہ کہتے ہیں کہ وہ موت کے بعد گناہگاروں کاکفار ہ اداکرنے کے لئے صرف تین دن جہنم میں رہے اور پھر دوبارہ زند ہ ہوکر خدا تعالیٰ کے داہنے ہاتھ جابیٹھے(پطرس کے نام خط نمبر ۱ باب ۳ آیت ۱۸)۔لیکن قرآن کریم کہتاہے کہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔حضرت مسیح ؑ صلیب پر فوت نہیں ہوئے بلکہ صلیب پر لٹکائے جانے کے بعد ان کے بے ہوش ہوجانے کی وجہ سے بعض لوگوں نے یہ خیال کرلیا کہ وہ صلیب پر فوت ہوگئے ہیں ورنہ وہ صلیب پر سے زند ہ اترآئے تھے(النساء: ۱۵۸)۔اورپھر صلیب سے نجا ت پانے کے بعد وہ آسمان پر نہیں اٹھائے گئے بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں کشمیر میں لایا (المومنون: ۵۱)۔اورانہوں نے ایک لمبے عر صہ تک اشاعتِ دین کے فرائض سرانجام دیئے۔غرض قرآن کریم یہود اور نصاریٰ کے باہمی اختلافات کوبھی دور کرتاہے اور ان امورپر بھی روشنی ڈالتا ہے جو مسلمانوں اور بنی اسرائیل میں مابہ النزاع ہیں اوراس طرح بنی نوع انسان کے لئے ہدایت اوررحمت کاسامان مہیاکرتاہے۔پھر فرماتا ہے اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِيْ بَيْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْعَلِيْمُ۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے ذریعہ سے صرف بنی اسرائیل کے باہمی اختلافات کو ہی دور نہیںکرے گا بلکہ وہ چونکہ غالب اور علم والا ہے۔اس لئے وہ ان کی مختلف قوموں اورفرقوں کے درمیان فیصلہ بھی کردے گا اورسچوں کو غالب او رجھوٹوں کو مغلوب کردے گا۔چنانچہ اس آیت