تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 160
کاموں کے لئے توکل نہیں کرتے بلکہ تمام و ہ تدابیر اختیار کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس عالم اسباب میں مقر رفرمائی ہیں۔باوجودا س کے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ موت اورحیات میرے اختیار میں ہے۔ذلّت اور عزت میرے ہاتھ میں ہے۔رزق کی فراخی اور تنگی میرے ہاتھ میں ہے۔ہم موت سے بچنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ہم حیات کے پیداکرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ہم ذلّت سے محفوظ رہنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ہم عزت اور ترقی کے حصول کے لئے بھی کوشش کرتے ہیں۔ہم رز ق بڑھانے اور آمدنی کووسیع کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔گویاہم وہ ساری تدابیر اختیار کرتے ہیں جن تدابیر کااختیار کرنا دنیوی کاموں کی سرانجام دہی کے لئے ضروری ہے۔مگرجب دین کا سوال آجاتاہے ہم نہایت بے تکلفی سے کہہ دیتے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کرے گا۔ہمیں اس میں فکر کرنے کی کیاضرورت ہے۔میں ایک دفعہ لاہورسے آرہاتھا۔یہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے زمانے کاواقعہ ہے۔جس کمرہ میں میں سوار ہوااسی کمرہ میںایک مشہور پیر صاحب بھی سوار ہوگئے۔انہیں مجھ سے کچھ کام تھا۔اوروہ مجھ سے ایک معاملہ میں مدد لیناچاہتے تھے۔دوران گفتگومیں انہوں نے مجھے ممنون کرنے کے لئے ایک رومال نکالا جس میں کچھ میوہ بندھاہواتھا۔اوررومال کھول کر میرے سامنے بچھادیا اورکہا کہ کھائیے۔وہ مجھ سے کسی احمدی کے پاس ایک معاملہ میں سفارش کراناچاہتے تھے۔مگراس سے پہلے وہ پیر صاحب یہ فتویٰ بھی شائع کرچکے تھے کہ احمدیوں سے ملنا جلنا اورگفتگوکرنا بالکل حرام ہے اوراگر کوئی ان سے ملے جلے یاگفتگوکرے یاان کے جلسہ میں شریک ہو تو اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوجاتی ہے۔چنانچہ مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام ایک دفعہ جب سیالکوٹ تشریف لے گئے اوروہاں ایک جلسہ ہواجس میں آپ نے تقریر فرمائی توراستہ میں بڑے بڑے مولوی ان پیر صاحب کے فتویٰ کے اشتہارات اٹھائے ہوئے لوگوں کوکہہ رہے تھے کہ جو مرزا صاحب کے لیکچر میں جائے گااس کی بیو ی کو طلاق ہوجائے گی۔جو احمدیوں سے ملے گا اس کی بیوی کوبھی طلاق ہوجائے گی۔اورجوان کے سلام کا جواب دے گا اس کی بیوی کو بھی طلاق ہوجائے گی مجھے یاد ہے جلسہ میں جب لوگ جاتے تو باہر بڑے بڑے مولوی کھڑے ہوکر لوگوں کوروکتے کہ اندرمت جانا۔ورنہ تمہارانکاح فسخ ہوجائے گا۔اس پر کئی جو ش میں آجاتے اور کہتے نکاح کاکیا ہے نکاح تو سواروپیہ دیکر پھر بھی پڑھا لیاجائے گا۔مرزا صاحب نے روز روز نہیں آنا۔اس لئے ان کا لیکچرضرور سنیں گے۔اوریہ کہہ کر وہ جلسہ میں شامل ہوجاتے۔توانہی پیرصاحب نے جن کایہ فتویٰ تھا کہ احمدیوں سے ملنے اور باتیں کرنے سے نکاح ٹو ٹ جاتاہے۔باوجود یہ معلوم ہونے کے کہ میں بانئے سلسلہ احمدیہ کالڑکا ہو ںرومال بچھا کر