تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 157
لَاشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ۔یعنی اے میرے خدامیں حاضر ہوں۔جس طرح کہ ابراہیمؑ نے کہا تھا کہ میں حاضر ہوں۔تیراکوئی شریک نہیں۔تیرے سواکوئی معبود نہیں۔میں تیری توحید کو پھیلانے کے لئے حاضر ہواہوں۔اب اس واقعہ پر غورکرو اور سوچو کہ کیا بائیبل میں بیا ن کیاہواواقعہ قرآن کریم کے بیان کردہ واقعہ سے کوئی بھی مناسبت رکھتاہے۔بائیبل کاحکم تو ایک وحشیانہ اور ظالمانہ حکم معلوم ہوتاہے جس میں کوئی حکمت نہیں تھی۔اسحاق ؑ کے گلے پر چھری پھیرنے سے دنیا کو کیافائدہ ہوسکتاتھا یا خود اسحاق ؑ کوکیافائد ہ ہوسکتاتھا۔مگراسمٰعیل کومکہ میں چھوڑنے سے اسمٰعیلؑ کوبھی فائدہ ہوااوردنیاکوبھی فائدہ ہوا۔اسمٰعیلؑ توحید سکھانے کاایک بہت بڑااستاد بن گیا اوردنیا اس کے ذریعہ خدائے واحد کی عبادت کرنے میں کامیاب ہوگئی۔مکہ کو دنیا کے نقشہ سے الگ کردو توساری دنیا میں توحید کا کوئی مرکز باقی نہیں رہتا۔اوراسمٰعیلؑ کی قربانی کوحذف کردو تو خدا تعالیٰ کے لئے زندگیاں وقف کرنے والا ولولہ پیداکرنے کی کوئی صورت دنیا میں باقی نہیں رہتی۔پس قرآن کریم ہرقسم کے گردوغبار کوجو مرورِ زمانہ کی وجہ سے بائیبل کے واقعات پر چھاگیا تھا صاف کرکے سچے اوردرست واقعات دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے اوراس بات کا ثبوت پیش کرتاہے کہ وَ مَا مِنْ غَآىِٕبَةٍ فِي السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍیعنی آسمان اورزمین کی ہر مخفی سے مخفی بات خدا تعالیٰ کے علم میں محفوظ ہے۔پھرقرآن کریم صرف انہی حقائق پر روشنی نہیں ڈالتاجن میں مسلمانوں اوربنی اسرائیل کا باہم اختلاف ہے بلکہ و ہ یہود اور نصاریٰ کے آپس کے اختلافات کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی دنیا کے سامنے صحیح حقیقت کو پوری طرح واضح کرتاہے۔مثلاً پیدائش مسیح ؑ کے متعلق ہی تمام یہود اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت مسیح ؑ کی ولادت نعوذ باللہ ناجائز تھی۔چنانچہ ان میں سے بعض تویہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح ؑ یوسف نجار کے نطفہ سے بغیر شادی کے پیداہوئے (انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا جلد ۵ص ۱۰۲ نیز دیکھو جیوش لائف آف کرائسٹ ص ۱۳)۔اوربعض کہتے ہیں کہ پنتھیرا نامی ایک روسی سپاہی تھاجس کے حضرت مریم ک ساتھ ناجائز تعلقات تھے اورانہی تعلقات کے نتیجہ میں حضرت مسیح ؑ کی ولادت ہوئی (جیوش انسائیکلوپیڈیا جلد ۷ ص ۱۷۰ کالم اول)۔اس کے مقابلہ میں انجیل یہ بیان کرتی ہے کہ ’’ یسوع مسیح کی پیدائش اس طرح ہوئی کہ جب اس کی ماں مریم کی منگنی یو سف کے ساتھ ہوگئی توان کے اکٹھے ہونے سے پہلے و ہ روح القدس کی قدرت سے حاملہ پائی گئی۔‘‘ (متی باب ۱آیت ۱۸) غرض یہود اورنصاریٰ میں ولادتِ مسیح کے مسئلہ پر ہی عظیم الشان اختلاف پایا جاتاہے۔یہودآپ کی ولادت