تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 156

’’تب خداوند کے فرشتہ نے اسے آسمان سے پکاراکہ اے ابراہام !اے ابراہام۔اس نے کہا میں حاضر ہوں۔پھر اس نے کہاکہ تُو اپنا ہاتھ لڑکے پر نہ چلا اورنہ اس سے کچھ کر۔کیونکہ میں اب جان گیا کہ تُو خدا سے ڈرتاہے۔اس لئے کہ تونے اپنے بیٹے کو بھی جو تیرااکلوتاہے مجھ سے دریغ نہ کیا۔اورابراہام نے نگاہ کی اوراپنے پیچھے ایک مینڈھا دیکھا جس کے سینگ جھاڑی میں اٹکے تھے۔تب ابراہام نے جاکر اس مینڈھے کو پکڑااور اپنے بیٹے کے بدلے سوختنی قربانی کے طورپر چڑھایا۔‘‘ (پیدائش باب ۲۲آیت ۹تا۱۴) گویا بائیبل کے بیان کے مطابق حضرت اسحاق علیہ السلام کو کسی شکل میں بھی ذبح نہیں کیا گیا۔نہ ظاہری رنگ میں اور نہ تشبیہی رنگ میں اور اس طرح یہ سارا واقعہ بائیبل کے بیان کے مطابق ایک کھیل تھا جو نعوذ باللہ خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کھیلا۔آخراس میں کیا لطف تھا کہ پہلے تو خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ تُو اسحاق ؑ کو ذبح کر اورپھر انہیں منع کردیا۔اگر اس واقعہ سے خدا تعالیٰ کا صرف اتنا ہی منشاء تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ایمان ظاہر ہوتوکیاخدا تعالیٰ کو پہلے معلوم نہیں تھا کہ ابراہیمؑ صادق الایمان اور راستباز انسان ہے اوراسے جوبھی حکم دیاجائے گاو ہ اس کی تعمیل کے لئے فوراً کھڑاہوجائے گا۔اورجبکہ خدا تعالیٰ کو پہلے ہی سے اس بات کاعلم تھا توحضرت اسحاق ؑ کو ذبح کرنے کاحکم دینا اورپھر اس سے روک دینا ایک بالکل بے معنے بات بن جاتی ہے۔اوراس کی تہ میں کوئی حکمت نظر نہیں آتی۔لیکن قرآن کریم بتاتاہے کہ اسماعیلؑ کی قربانی کاجو حضرت ابراہیم علیہ السلام کوحکم دیاگیا تھا و ہ تشبیہی زبان میں تھا۔یہ مراد نہیں تھی کہ آپ واقعہ میں اپنے بیٹے کو چھری سے ذبح کردیں بلکہ ذبح سے مراد اس کو دین کی خاطر ایسی جگہ پر رکھناتھا جہاںکھانے پینے کے سامان مہیانہیں تھے۔چنانچہ گوقرآن کریم کے مطابق بھی حضر ت اسمٰعیل ؑ کو ذبح کرنے سے منع کیاگیا لیکن خواب کاجو اصل مفہوم تھا یعنی حضرت اسمٰعیلؑ کو ایک بے آب و گیاہ جنگل میں چھوڑ آنا۔اس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو منع نہیں کیاگیا۔بلکہ اس حکم پر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے عمل کروایا چنانچہ آج تک مکہ اسمٰعیلؑ کی نسل سے آباد ہے اور خدائے واحد کی وہاں پرستش کی جاتی ہے اورخدا تعالیٰ کی طرف لوگوں کو بلایاجاتاہے۔پس قرآنی تشریح کے مطابق یہ قربانی ظالمانہ اوروحشیانہ نہیں تھی۔بلکہ پُرمغز اوربامعنی قربانی تھی جس سے آج تک دنیا فائدہ اٹھارہی ہے۔اوراب بھی اسمٰعیلؑ کے ذریعہ اس بے آب و گیاہ جنگل میں خدائے واحد کا نام بلند کیا جاتا ہے۔چنانچہ لاکھو ںآدمی حج کے موقعہ پر اس وادی غیر ذی زرع میں جمع ہوتے ہیں۔اوران میں سے ہر شخص بلند آواز سے کہتاہے کہ لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ