تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 152
کے لئے ہرقسم کی تدابیر عمل میں لاتے رہیں گے۔پس تُو ان کی تدبیروں پر اپنے دل میں تنگی محسوس نہ کریو۔کیونکہ آخر ان کی تدبیریں ناکام رہیں گی اور و ہ کبھی کامیابی کامنہ نہیں دیکھ سکیں گے۔وَ يَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۰۰۷۲قُلْ اوروہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہوتو یہ (عذاب کا)وعدہ کب پوراہوگا؟۔تُو کہہ دے کہ ممکن ہے کہ وہ عَسٰۤى اَنْ يَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِيْ تَسْتَعْجِلُوْنَ۠۰۰۷۳ (عذاب ) جس کے لئے تم جلدی کررہے ہو ا س کاکچھ حصہ تمہارے پیچھے پیچھے چلاآرہاہو۔وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا اورتیرارب لوگوں پر فضل کرنے والا ہے لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے۔يَشْكُرُوْنَ۰۰۷۴وَ اِنَّ رَبَّكَ لَيَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ اورتیرارب ان چیزوں کوبھی جانتاہے جن کو ان کے سینے چھپارہے ہیں مَا يُعْلِنُوْنَ۰۰۷۵ اورجن کو وہ ظاہر کررہے ہیں۔حلّ لُغَات۔تُکِنَّ:تُکِنَّ کنَّ سے باب افعال فعل مضارع معروف واحد مؤنث کاصیغہ ہے۔اور کَنَّ الشَّیْءَ وَاَکَنَّہٗ کے معنے ہیں سَتَرَہٗ فِیْ کِنِّہٖ وَغَطَّاہٗ وَاَخْفَاہُ۔کسی چیز کو پردے میں چھپادیا۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے۔یہ کفار اس قدر سرکش ہوچکے ہیں کہ بجائے اس کے کہ انہیں جوڈھیل دی گئی ہے اس سے یہ فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے نفس کی اصلاح کرتے اورخدا تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتے یہ بڑی بے باکی سے پوچھتے ہیں کہ اگر تم سچے ہوتوبتائو یہ عذاب کاوعدہ کب پوراہوگا۔تُو ان سے کہہ دے کہ ممکن ہے وہ عذاب جس کے لئے تم جلدی کررہے ہو اس کاکچھ حصہ تمہارے پیچھے پیچھے چلاآرہاہو۔یعنی تباہی کی کامل گھڑی توکچھ دیر میں آئے گی لیکن اس سے پہلے بعض اورچھوٹے چھوٹے عذابوں کا جلدی آنا بھی مقد رہے اس لئے تمہیں اپنی بے باکی سے توبہ کرنی چاہیے کیونکہ کوئی انسان بھی خدا تعالیٰ کے عذاب کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔باقی رہایہ سوال کہ