تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 153

بڑاعذاب جلدی کیوں نہیں آجاتا۔اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں پربڑا فضل کرنےوالا ہے۔یعنی وہ چاہتاہے کہ جس طرح بھی ہو لوگوںکو ڈھیل دے کر بچالوں۔مگرافسوس کہ بجائے اس کے کہ بندے ا س کے شکر گذار ہوں وہ ڈھیل دیکھ کر اَوربھی متکبر ہوجاتے ہیں اورشرارتوں میں ترقی کرجاتے ہیں۔و ہ یہ نہیں جانتے کہ تیرارب ان کے مخفی ارادوں اورظاہر باتوں سب کو جانتاہے اوران کی وجہ سے انہیں سزاکامستحق سمجھتاہے لیکن محض اپنے فضل کی وجہ سے انہیں ڈھیل دے رہاہے۔وَ مَا مِنْ غَآىِٕبَةٍ فِي السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ اورآسمانوں اور زمین میں جوکوئی بھی چھپی ہوئی چیز ہے ایک بیان کرنے والی کتاب میں (محفوظ)ہے۔مُّبِيْنٍ۰۰۷۶اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَقُصُّ عَلٰى بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے اکثر و ہ باتیں سناتاہے جن میں وہ اختلاف کررہے ہیں اَكْثَرَ الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ۰۰۷۷وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ اوروہ ضرور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔تیرارب ان (یعنی بنی اسرائیل) رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ۰۰۷۸اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِيْ بَيْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ کے درمیان اپنے حکم (یعنی قرآن)کے ساتھ (سچا)فیصلہ کرتاہے۔وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْعَلِيْمُۙۚ۰۰۷۹فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى اوروہ غالب (اور)بہت بڑے علم والا ہے۔الْحَقِّ الْمُبِيْنِ۰۰۸۰ پس اللہ (تعالیٰ) پر توکل کر۔تویقیناً ایک مدلّل حق پر قائم ہے۔حل لغات۔غَائِبَۃٌ غَائِبَۃٌکے معنے ہیں۔کُلُّ غَائِبٍ عَنِ الْحَاسَّۃِ و عَمَّایَغِیْبُ عَنْ عِلْمِ الْاِنْسَانِ (مفردات )یعنی ہروہ چیز جس کاحِسّ سے علم نہ ہوسکے۔یاجس کا انسان کو علم نہ ہو۔