تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 150
ان میںاور خدا تعالیٰ کے انبیاء میں ایک نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کے انبیاء پر جووحی نازل ہوتی ہے اس میں آسمان و زمین کے غیب بیان کئے جاتے ہیں۔مگرغیر اللہ میں سے کوئی نہیں جو آسمان و زمین کاغیب بتاسکے۔پھر نبی تویہ بھی بتادیتے ہیں کہ ان کی قوم اور ان کے ماننے والے کب ترقی کریں گے۔لیکن معبودان باطلہ کاکوئی نمائندہ کبھی نہیں بتاسکتا کہ معبودان باطلہ کب زندہ ہوں گے۔یعنی ان کامشرکانہ دین کب دنیا میں قائم ہوگا۔اس بار ہ میں ان کاعلم ختم ہوچکاہے۔بلکہ اب توانہیں اپنی ترقی کے متعلق خود بھی کوئی یقین نہیں رہا۔صرف اٹکل پچو باتیں کرتے رہتے ہیں۔بلکہ اٹکل پچوباتیں بھی الگ رہیں اصل حقیقت تویہ ہے کہ وہ اس بارہ میں بالکل اندھے ہیں اوروہ اپنے مستقبل کے متعلق کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔جبکہ خدا کارسول توحید کی اشاعت او راس کے غلبہ کی خبروں کے بعد خبریں دے رہاہے اور دنیا میں ایک تغیر عظیم پیداہورہاہے۔وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَااَىِٕنَّا اورکافرکہتے ہیں کہ کیا جب ہم اورہمارے باپ دادے مٹی ہوجائیں گے لَمُخْرَجُوْنَ۰۰۶۸لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ توکیا ہم پھر زمین سے زندہ کرکے نکالے جائیں گے۔ہم او رہمارے باپ دادوں اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ۰۰۶۹قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ سے اس سے پہلے ایسا ہی وعدہ کیاگیاتھا۔مگریہ صرف پہلے لوگوں کی باتیںہیں (جوکبھی پوری نہیں ہوتیں) فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِيْنَ۰۰۷۰ تُو کہہ دے کہ زمین میں پھر و اوردیکھو کہ مجرموں کاانجام کیساہواتھا۔حلّ لُغَات۔اَسَاطِیْر۔اَسَاطِیْرُ سَطْرٌ کی جمع اِسْطَارٌ ہے اور اِسْطَارٌ کی جمع اَسَاطِیْر ہے۔وَقَالَ الْمُبَرِّدُ جَمْعُ اُسْطُوْرَۃٍ۔اما م لغت مبرّد نے کہاہے کہ اَسَاطِیْر اُسْطُوْرَۃٌ کی جمع ہے اور اُسْطُوْرَۃٌ کے معنے ہیں مَایُسْطَرُ اَیْ یُکْتَبُ۔لکھی ہوئی تحریر (اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے۔کفار کہتے ہیں کہ کیاجب ہم اورہمارے باپ دادامرکر مٹی ہوجائیں گے تواس وقت