تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 149
الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫ٞ بَلْ هُمْ مِّنْهَا بارے میں ان کا علمِ باطل ختم ہوگیاہے۔بلکہ وہ اس کے بار ہ میں شک میں پڑے ہوئے ہیں۔بلکہ وہ اس کے عَمُوْنَؒ۰۰۶۷ بارہ میں بالکل اندھے ہیں۔حلّ لُغَات۔اِدّٰرَکَ۔اِدّٰرَکَ اصل میں تَدَارَکَ تھا۔ت کو دال سے ہم مخرج ہونے کی وجہ سے دالؔ بناکر دالؔ میں ادغام کردیا۔پہلاحرف ساکن ہونے کی وجہ سے ہمزئہ وصل ابتداء میں لایاگیا۔او ر تَدَارَکَ الْقَوْمُ کے معنے ہیں تَلَاحَقُوْااَیْ لَحِقَ اٰخِرُھُمْ اَوَّ لَھُمْ یعنی قوم کاآخری حصہ اول حصہ سے مل گیا۔(اقرب) عَمُوْنَ۔عَـمُوْنَ عَمِیٌ کی جمع ہے اور اَلْعَمِیْ کے معنے ہیں ذُوالْعَمٰی اندھاجس کی آنکھوں کی بینائی جاتی رہے۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے زمین وآسمان میں سوائے خداکے اَورکوئی غیب نہیں جانتا۔یعنی مصفٰی علمِ غیب صرف خدا تعالیٰ کے پاس ہی ہے۔اوریہ لوگ جو بتوں کے پرستار ہیں یاستاروں وغیرہ کو دیکھ کر غیب کی خبریں بتانے کے دعویدار ہیں یہ تواپنی ترقی کا زمانہ بھی نہیں بتاسکتے اوراتنی بات بھی نہیں جانتے کہ ان کی قوم کب ترقی کرے گی یہ برابر تباہ ہوتے جارہے ہیں مگرنہیںجانتے کہ ان کی تباہی کب دور ہوگی۔اس کے مقابلہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو پہلے اکیلے تھے آج کروڑوں کے سردار بنے ہوئے ہیں۔اگران لوگوں کے معبود بھی اپنے اندر کو ئی طاقت رکھتے یاانہیں ستاروں سے علم غیب حاصل ہو سکتا ہے توکیوں یہ اپنی ترقی کا زمانہ نہیں بتاسکتے اور کیوںمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ترقی جو غیراللہ سے علم غیب حاصل کرنے کے قائل نہیں روک نہیں دیتے جب یہ اپنی ترقی کا زمانہ بھی نہیں بتاسکتے توانہوں نے اورکونسی غیب کی خبربتانی ہے۔پھر فرمایاکہ بَلِ ادّٰرَکَ عِلْمُھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ۔حقیقت یہ ہے کہ یہ اپنے انجام کے بارہ میں علم سے بالکل خالی ہیں۔بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْهَا بلکہ خود بھی اپنی ترقی کے متعلق انہیں کوئی یقین نہیں۔صرف اندھوں کی طرح تخمینے کرتے ہیں جس طر ح اندھا ادھر ادھر ہاتھ مارتاہے۔توکبھی اس کے ہاتھ میں لکڑی آجاتی ہے اور کبھی لوہا۔کبھی سیدھی سڑک پر چلنے لگتاہے اور کبھی گڑھے میں گرجاتاہے اسی طرح ان کوبھی کبھی کوئی ایک آدھ بات تخمینے سے درست معلوم ہوجاتی ہے اور کبھی حق سے دور باتوں کو سچ سمجھ لیتے ہیں۔بہرحال