تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 147

زیادہ دیر تک نہیں جاسکتی کچھ وقت کے بعد خراب ہوجائے گی۔حضرت ابوبکرؓ۔حضرت عمرؓ۔حضرت عثمان ؓ اور حضرت علیؓ کے زمانہ میں تومسلمان شکار کاتازہ گوشت کھاتے تھے لیکن جب انہوں نے اپنی زندگی کی روح کو ختم کردیا تو تازہ شکار کی بجائے اپنے باپ داداکاماراہواشکار انہوں نے کھاناشروع کردیا۔مگر یہ شکار کب تک کام دے سکتاتھا۔ایک ذبح شدہ بکری میں اگر بیس پچیس سیر گوشت بھی ہوتو آخر وہ ختم ہوجائے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ان کاماراہواشکار بھی ختم ہوگیا اورپھر ان کاوہی حال ہواکہ ’’ ہتھ پرانے کھوسڑے بسنتے ہوری آئے ‘‘ وہ ہرجگہ ذلیل ہوناشروع ہوئے۔انہیں ماریں پڑیں۔اوران کی تمام شان وشوکت جاتی رہی۔عیسائیوں نے تو اپنی مردہ خلافت کوآج تک سنبھالاہواہے لیکن انہوں نے اپنی زندہ خلافت کواپنے ہاتھو ںزمین میں گاڑ دیا۔جومحض نفسانی خواہشات۔دنیوی ترقیات کی تمنا اور وقتی جوشوں کانتیجہ تھا۔اب چونکہ خدا تعالیٰ نے پھر اپنے فضل سے مسلمانوں کو دوبار ہ زندہ کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ جماعت احمدیہ میں خلافت قائم کی ہے اس لئے میں اپنی جماعت سے کہتا ہوں کہ تمہاراکا م یہ ہے کہ تم ہمیشہ اپنے آپ کو خلافت سے وابستہ رکھو۔اورخلافت کے قیام کے لئے قربانیاں کرتے چلے جائو۔اگر تم ایساکرو گے توخلافت تم میں ہمیشہ رہے گی خلافت تمہارے ہاتھ میں خدا تعالیٰ نےدی ہی اسی لئے ہے تاوہ کہہ سکے کہ میں نے اسے تمہارے ہاتھ میں دیاتھا۔اگرتم چاہتے تو یہ چیز تم میں قائم رہتی۔اگراللہ تعالیٰ چاہتاتو اسے الہامی طورپر بھی قائم کرسکتاتھا مگرا س نے ایسانہیں کیا بلکہ اس نے یہ کہا کہ اگر تم لوگ خلافت کوقائم رکھناچاہوگے تومیں بھی اسے قائم رکھوں گا گویا اس نے تمہارے منہ سے کہلواناہے کہ تم خلافت چاہتے ہو یا نہیں چاہتے۔اب اگرتم اپنا منہ بند کرلو۔یاخلافت کے انتخاب میں اہلیت مد نظر نہ رکھو توتم اس نعمت کو کھوبیٹھو گے۔پس مسلمانوں کی تباہی کے اسباب پر غور کرو۔اوراپنے آپ کو موت کاشکار ہونے سے بچائو۔تمہاری عقلیں تیز ہونی چاہئیں۔اور تمہارے حوصلے بلند ہونے چاہییںتم وہ چٹان نہ بنو جودریا کے رخ کو پھیر دیتی ہے۔بلکہ تمہاراکام یہ ہے کہ تم وہ چینل CHANNEL بن جائو جوپانی کو آسانی سے گذارتی ہے۔تم ایک ٹنل ہو جس کاکام یہ ہے کہ وہ فیضان الٰہی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ حاصل ہواہے اسے آگے چلاتے چلے جائو۔اگر تم ایسا کرنے میں کامیاب ہوجائوگے توتم ایک ایسی قوم بن جائو گے جوکبھی نہیں مرے گی۔اوراگرتم ا س فیضان الٰہی کے رستہ میں روک بن گئے۔اس کے رستہ میں پتھر بن کر کھڑے ہوگئے۔تووہ تمہاری قوم کی تباہی کا وقت ہوگا پھر تمہاری عمر کبھی لمبی نہیں ہوگی اور تم اسی طرح مر جائوگے جس طرح پہلی