تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 148

قو میں مریں۔پھرفرماتا ہے وَ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ۔تم اس امر پربھی غورکرو کہ آسمان اورزمین سے تمہیں کون رزق دیتاہے۔کیا خدا تعالیٰ کے سواکوئی اورمعبود ہے جوتمہیں یہ رزق بہم پہنچارہاہے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایاہے کہ قوم کی مالی حالت میں جو ترقی ہوتی ہے وہ بھی الٰہی سامانوں سے ہی ہوتی ہے۔کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی جس میں محنت کی عادت نہ ہو۔اورکوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی جس میں سچ کی عادت نہ ہو۔اورقوم کے اندرمحنت کرنے اور سچ پرقائم رہنے کامادہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی آتاہے۔پس قومی ترقیات کو کسی غیر کی طرف منسوب نہیں کیاجاسکتاصرف ایک خدا کی طرف منسوب کیاجاسکتاہے اوراس کے خلاف کوئی شخص دلیل پیش نہیں کرسکتا اوراگرکرے گا تو خود تاریخ اس کوردّ کردے گی۔پھراس آیت میں بنی نوع انسان کو اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ جب تمہاری جسمانی حیات کے لئے اللہ تعالیٰ تمہیں رزق مہیا کرتاہے تویہ کس طرح تسلیم کیا جاسکتاہے کہ اس نے روحانی حیات کے لئےجو انسانی پیدائش کا منتہٰی ہے کوئی انتظام نہ کیا ہو۔اس کاانسانی جسم کی حفاظت اور اس کے بقاء کے لئے رزق مہیا کرنا بتارہاہے کہ وہ انسانی روح کی درستی اور اس کی ترقی کے لئے بھی سامان مہیاکرتاہے اورانبیاء و مصلحین کاوجود اس کی اس رزاقیت کاایک کھلاثبوت ہے۔اگرمشرکین کا یہ دعویٰ کہ ان کے بت بھی اپنے اندر خدائی طاقتیں رکھتے ہیں درست ہے تو وہ انبیاء کے مقابلہ میں کیوں وہ مدّعی پیش نہیں کرتے جوان کے بتوں نے کھڑے کئے ہوں اوراگروہ ایساکوئی مدعی پیش نہیں کرسکتے تویہ صاف طورپر اس امر کاثبوت ہے کہ انہیں خدا تعالیٰ کا شریک قراردینا ایک بے دلیل بات اورمحض لاف زنی ہے۔قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ (پھرتُو)کہہ دے کہ آسمانوں اور زمین میں جو مخلوق بھی ہے خداکے سوا(ان میں سے کوئی )غیب کو نہیں جانتی۔وَ مَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ۰۰۶۵بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِي اوران میں سے کوئی یہ بھی نہیں سمجھتاکہ ان کو کب زندہ کرکےاٹھایاجائے گا۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اخر وی زندگی کے