تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 144
ہوگئے تھے۔اور دوسرے ان کی ٹنڈنسیز TENDENCIES انارکیکل ANARCHICAL ہوگئی تھیں۔یعنی ان میں فساد اور بغاوت کی روح پیداہوگئی تھی۔میں نے سوچاکہ واقع میںیہ دونوں باتیں صحیح ہیں ان کا ماربڈ MORBID ہوناتو اس سے ظاہر ہے کہ انہیں جو بھی ترقیات ملیں وہ اسلام کی وجہ سے ملی تھیں۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بدولت ملی تھیں۔ان کی ذاتی خوبی یاکمال کاان میں کوئی دخل نہیں تھا۔مگرانہوں نے ان ترقیات کو اپنی ذاتی قابلیتوں کانتیجہ سمجھنا شروع کردیا حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے مکہ والوں کی جوکچھ حالت تھی اس کااندازہ صرف اسی بات سے ہو سکتا ہے کہ لوگ ان کاصرف مجاور سمجھ کرادب کرتے تھے۔ورنہ ذاتی طورپر ان میں کوئی ایسی خوبی نہیں تھی جس کی وجہ سے لوگ ان کی عزت کرنے پر مجبور ہوتے۔اسی طرح جب وہ غیر قوموں میں جاتے تووہ بھی ان کامجاورسمجھ کر ہی اعزاز کرتیں۔یازیاد ہ سے زیادہ تاجر سمجھ کر ادب کرتی تھیں۔وہ انہیں کوئی حکومت قرارنہیں دیتی تھیں اورپھر ان کی حیثیت اتنی کم سمجھی جاتی تھی کہ دوسری حکومتیں یہ سمجھتی تھیں کہ ہم جب چاہیں ان کو کچل سکتی ہیں جیسے یمن کے گورنر نے بیت اللہ کوگرانے کے لئے حملہ کردیا۔جس کاقرآن کریم نے اصحاب الفیل کے نام سے ذکرکیا ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ نبوت فرمایا توتیرہ سال تک توصرف تھوڑے سے آدمی آپ پر ایمان لائے مگرہجرت کے آٹھویں سال بعد ساراعر ب ایک نظام کے ماتحت آگیا اوراسلام کو ایسی طاقت اورقوت حاصل ہوگئی کہ بڑی بڑی حکومتیں اس سے ڈرنے لگیں۔اس وقت دنیا حکومت کے لحاظ سے دوبڑے حصوں میں منقسم تھی۔اول رومی حکومت دوم ایرانی سلطنت۔رومی سلطنت کے ماتحت تما م مشرقی یورپ۔ٹرکی۔ایبے سینیا۔یونان۔مصر۔شام اوراناطولیہ تھا۔اورایرانی سلطنت کے ماتحت عراق۔ایران۔رشین ٹری ٹوری کے بہت سے علاقے۔افغانستان۔ہندوستان کے بعض علاقے اورچین کے بعض علاقے تھے۔ان دونوں حکومتوں کے سامنے عرب کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی۔لیکن ہجرت کے آٹھویں سال بعد ساراعرب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہوگیا۔اس کے بعد جب سرحدات پر عیسائی قبائل کی شرارت کی آپ کو خبریں ملنی شروع ہوئیں توپہلے توآپ ؐ خود وہاں تشریف لے گئے اورجب آپؐ کو معلوم ہواکہ کوئی شامی لشکر اس وقت جمع نہیں ہورہا توآپؐ بعض قبائل سے معاہدات کرکے بغیر کسی لڑائی کے واپس آگئے۔لیکن تھوڑ ے عرصے بعد ہی قبائل نے پھر شرارت شروع کی۔توآپؐ نے ان کی سرکوبی کے لئے حضرت اسامہ بن زیدؓ کی سرکردگی میں ایک لشکرتیار کیا۔اس لشکر نے بہت سے قبائل کو سرزنش کی اور بہتوںکو معاہدہ سے تابع کیا (تاریخ الخمیس غزوة تبوک)۔پھر آپ ؐ کی وفات کے بعد اڑہائی سال کے عرصہ میں ہی یہ حکومت عرب سے نکل کر دوسرے علاقوں میں بھی پھیلنی شروع ہوئی۔فتح مکہ کے پانچ سال کے