تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 145

بعد ایرانی حکومت پر حملہ ہوگیاتھا۔اوراس کے بعض علاقوں پر قبضہ بھی کرلیاگیاتھا۔اورچند سالوں میں رومی سلطنت اور دوسری سب حکومتیں تباہ ہوچکی تھیں۔اتنی بڑی فتح اور اتنے عظیم الشان تغیر کی مثال دنیا کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔تاریخ میں صرف نپولین کی ایک مثال ملتی ہے لیکن اس کے مقابلہ میں کوئی ایسی طاقت نہیں تھی جوتعداد اورطاقت میں اس سے زیادہ ہو۔جرمن کاملک اس وقت ۱۴ چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں منقسم تھا۔اوراس طرح اس کی تمام طاقت منتشر تھی۔چنانچہ ایک مشہور امریکن پریذیڈنٹ سے کسی نے پوچھا کہ جرمن کے متعلق تمہاری کیارائے ہے اس نے کہا۔ایک شیر ہے۔دوتین لومڑ ہیں اور کچھ چوہے ہیں۔شیر سے مراد رشیا تھا۔لومڑ سے مراد دوسری حکومتیں تھیں۔اورچوہوں سے مراد جرمن تھے۔گویاجرمن اس وقت ٹکڑے ٹکڑے تھا۔روس ایک بڑی طاقت تھی۔مگروہ روس کے ساتھ ٹکرایا اور وہاں سے ناکام واپس لوٹا۔اسی طرح انگلستان کوبھی فتح نہ کرسکا اورانجام اس کا یہ ہواکہ وہ قید ہوگیا۔پھردوسرابڑاشخص ہٹلر ہوا۔بلکہ دوبڑے آدمی دوملکوں میں پیداہوئے یعنی ہٹلر اور مسولینی۔دونوں نے بیشک ترقیات حاصل کیں لیکن دونوں کاانجام شکست ہوا۔مسلمانوں میں سے جس نے یکدم بڑی حکومت حاصل کی وہ تیمور تھا۔اس کی بھی یہی حالت تھی۔وہ بیشک دنیا کے کناروں تک گیا لیکن وہ اپنے اس مقصدکو کہ ساری دنیا فتح کرلے حاصل نہ کرسکامثلاً وہ چین کوتابع کرناچاہتاتھا لیکن تابع نہ کرسکا اورجب و ہ مرنے لگا تواس نے کہا۔میرے سامنے انسانوں کی ہڈیوں کے ڈھیر ہیں جومجھے ملامت کررہے ہیں۔پس صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی آدمؑ سے لے کر اب تک ایسے گذرے ہیں جنہوں نے فردواحد سے ترقی کی اورتھوڑے عرصہ میں ہی سارے عرب کو تابع فرمان کرلیا۔اورآپؐ کی وفات کے بعد آپ کے ایک خلیفہ نے ایک بہت بڑی حکومت کو توڑ دیا اورباقی علاقے آپؐ کے دوسرے خلیفہ نے فتح کرلئے۔یہ تغیر جو واقع ہوامحض خدائی نصرت کانتیجہ تھا۔کسی انسان کاکام نہیں تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو آ پ ؐکے بعد حضر ت ابو بکرؓ خلیفہ ہوئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر مکہ میں پہنچی تو ایک مجلس میں حضرت ابو بکرؓ کے والد ابوقحافہؓ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔جب پیغامبر نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ عیہ وسلم فوت ہوگئے ہیں توسب لوگوں پر غم و اندوہ کی کیفیت طاری ہوگئی اورسب نے یہی سمجھا کہ اب ملکی حالات کے ماتحت اسلام پراگندہ ہوجائے گا۔چنانچہ انہوں نے کہا۔اب کیا ہوگا؟ پیغامبر نے کہا۔آپ کی وفات کے بعد حکومت قائم ہوگئی ہے اورایک شخص کو خلیفہ بنالیاگیا ہے۔انہوں نے دریافت کیا کون خلیفہ مقرر ہواہے ؟ پیغامبر نے کہا ابو بکرؓ۔ابو قحافہ نے حیران ہوکر پوچھا۔کو ن ابو بکرؓ؟ کیونکہ وہ اپنے خاندان کی حیثیت کو خوب سمجھتے تھے اور اس حیثیت کے لحاظ سے و ہ خیال بھی نہیں کرسکتے تھے کہ ان کے بیٹے کو ساراعرب بادشاہ تسلیم کرلے گا۔پیغامبر