تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 129

لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد ہم کفار کو بھی منظم اور مصروف عمل پاتے ہیںاوروہ سارے کے سارے اس کام کے لئے کوشاں نظر آتے ہیں کہ کسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کوپھیلنے سے روکیں اورسارے متحد ہوکر اس دین کو مٹانے کے لئےکوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔لیکن کیاوجہ ہے کہ یہ تنظیم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل نہیں تھی۔اس کی وجہ یہی ہے کہ جب آسمان سے بارش آتی ہے توہرقسم کی چیزوں میں روئیدگی پیداہوجاتی ہے اورکفر بھی اپناسراٹھاناشروع کردیتاہے۔اس کے مقابلہ میں جب جھوٹے مدعی کھڑے ہوتے ہیں تولوگ ان سے کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے کیونکہ بکری بکری سے کبھی نہیں ڈرتی۔بکری شیر سے ڈراکرتی ہے۔اس لئے جب کوئی جھوٹامدعی کھڑاہوتاہے تولوگ اس سے نہیں ڈرتے۔لیکن جب کبھی فطرت انسانی یہ سمجھتی ہے کہ سچاموعود آگیاہے تواس وقت کافر بھی بیدارہو جاتا ہے اورسمجھتاہے کہ یہ سچا خطرہ ہے اس کودورکرنے کی کوشش کرنا میرے لئے ضروری ہے۔چنانچہ جس قسم کی منظم مخالفت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوئی ہے یااب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں ہوئی ہے ایسی مخالفت کسی جھوٹے مدعی کے زمانہ میں نہیں ہوئی۔بابؔ کے زمانہ میں بیشک شورش اورفساد پیداہوا۔لیکن یہ فساد بابیوںکے اپنے افعال کے نتیجہ میں تھا۔پہلے بابیوں نے بعض لوگوںکوقتل کیا ان قتلوں کے نتیجہ میں حکومت نے ان کو مارا۔لیکن پبلک خاموش رہی اوراس نے کوئی مقابلہ نہیں کیا (Baha Ullah and the New Era pg۔32,33)۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں تمام غیرقوموں میں آپ کے مقابلہ کاجوش پیداہوگیا اورہرایک نے یہ کوشش کی کہ کسی طرح احمدیت کوکچلا جائے۔یہ چیز دنیا کے پردہ پر اَورکسی مدعی کے مقابلہ میں نظر نہیں آتی۔بہائی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو منسوخ قرار دیتے ہیں (الکواکب الدریۃ جلد اول صفحہ ۲۲۰)۔لیکن ایک مسلمان کہلانے والا ایک بہائی کی باہوں میں باہیں ڈالتاہے اورکہتاہے۔چھوڑوان باتوںکوتم بھی سچے اورہم بھی سچے۔چلودونوں مل کر احمدیت کا مقابلہ کریں۔توجس طرح بارش کاپانی گرنے سے ہرقسم کی روئیدگی پیداہوجاتی ہے اسی طرح روحانی بارش کے وقت کفر بھی بیدارہو جاتا ہے اورایمان بھی تروتازہ ہو جاتا ہے۔چنانچہ اس زمانہ میںادھرحضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی آمد سے ایک مخلص جماعت قائم ہوئی۔وہ جماعت جس کے اندر تقویٰ او راخلاص پایا جاتا ہے اوراس کے ایمان کے اندر ایک بیداری اوربلندی کی امنگ پائی جاتی ہے اوراُدھر آپ کے آنے سے کفر میں بھی بیداری اورحرکت پیدا ہوگئی۔غرض جس طرح بارش کے آنے پر تلخ بوٹیاںجوآپ ہی آپ اگ آتی ہیں وہ اپناجوش اور ابھار دکھاتی ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ انبیاء کی جماعتوںسے بھی امید رکھتاہے کہ ان تلخ بوٹیوں کے مقابل میں اسی طرح بلکہ ان سے بھی بڑھ