تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 130
کر اپناابھاردکھائیں اور روحانی حسن کو ظاہرکرنے کی ایسے رنگ میں کوشش کریں کہ شیطان کاحسن بالکل ماند پڑ جائے۔اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ (بتائو تو )کس نے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ بنایاہے اوراس کے بیچ میں دریاچلائے ہیں۔اوراس کے (فائدہ)کے لَهَا رَوَاسِيَ وَ جَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ لئے پہاڑ بنائے ہیں اوردوسمندروں کے درمیان (جن میں سے ایک میٹھااور ایک کھاری ہوتاہے )ایک روک اللّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَؕ۰۰۶۲ بنائی ہے۔کیا اللہ کے سواکوئی اَورمعبود ہے؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر جانتے نہیں۔حلّ لُغَات۔رَوَاسِیَ۔اَلرَّوَاسِی کے معنے ہیں اَلْجِبَالُ الثَّوَابِتُ الرَّوَاسِخُ۔مضبوط گڑے ہوئے پہاڑ۔(اقرب) حَاجِزًا۔حَاجِزًاحَـجَزَ سے اسم فاعل ہے۔اورحَـجَزَہٗ حَـجْزًاوحِـجَازَۃً کے معنے ہیں مَنَعَہٗ وَکَفَّہٗ وَدَفَعَہٗ۔ا س کو روکا اور ہٹایا۔اور اَلْحَاجِزُ کے معنے ہیں اَلْبَرْزَخُ۔روک۔پردہ۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے۔وہ کون ہے۔جس نے زمین کو رہائش کے قابل بنایاہے۔اوراس کے اندر دریا چلائے ہیں۔جن کے پانی کوسلامت رکھنے کے لئے اس نے پہاڑوں کاایک سلسلہ قائم کیا ہے جن سے دریائوں کومدد ملتی رہتی ہے۔پھر زمین میں اس نے سمندر بنائے ہیں اورسمندروں کے نمکین پانی اور دریائوں کے میٹھے پانی کے درمیان ایک روک بنادی ہے یعنی سمندر کانمکین پانی ڈھلوان کی طرف ہے۔وہ دریائوں کے میٹھے پانی کو خراب نہیں کرسکتا۔اوردریائوں کامیٹھاپانی سمندر کے نمکین پانی کے مقابلہ میں اتنا تھوڑاہے کہ باوجود سمندروں میں گرنے کے پھر بھی وہ سمندر کے پانی کے مزے کو بدل نہیں سکتا۔اوراس طرح میٹھے اور نمکین پانی میں ایک دائمی روک قائم رہتی ہے۔کیاایسے مدبّر خدا کا کوئی اَورشریک پیش کیاجاسکتاہے ؟ کبھی نہیں۔لیکن مشرک لوگ اکثر جاہل ہوتے ہیں۔وہ اتنے بڑے نشانات کو دیکھنے کے باوجود کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے اوراندھو ںکی طرح ادھر ادھر ہاتھ مارتے پھرتے ہیں۔کائناتِ عالم کایہ نظارہ پیش کرکے اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جب