تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 128

ایک دن کوئی دوست مچھلی تحفہ کے طور پر لائے۔ہماری ڈیوڑھی کے آگے ایک تخت پوش بچھارہتاتھا۔وہ اس پر بیٹھ کرمچھلی صاف کرنے لگے اورہم چار پانچ بچے تماشہ دیکھنے کے لئے پاس بیٹھ گئے۔میرے ہاتھ میں ایک پیڑاتھا جو میں کھارہاتھا۔مچھلی کے خیال میں شاید میراہاتھ تخت پوش سے لگ گیا اورایک چیونٹاپیڑے پر چڑھ گیا۔میں جب اسے کھانے لگا تواس چیونٹے نے میرے ہونٹ پر کاٹ لیا۔میں نے اسے بہتیراکھینچا اورچھڑانے کی کوشش کی۔مگراس نے نہ چھوڑا۔آخر میاں جان محمد صاحب نے اسے چھری سے کاٹ دیا۔یہی حال مومن کاہوناچاہیے۔یاتووہ دین کو اختیار ہی نہ کرے اوراگر کرے توپھر اس کے ساتھ اس طرح چمٹ جائے جس طرح چیونٹاچمٹ جاتاہے اورپھر چاہے اسے کاٹ ڈالاجائے وہ دین چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہو۔آخر ایما ن کی فصل تومرنے کے بعد ہی کٹتی ہے۔اگر و ہ اس جدوجہد میں مربھی جائے گا تو کیا ہوگا۔صرف اتنا ہی فرق پڑے گاکہ لوگوں کی فصل اگر مئی میں کٹتی ہے تواس کی فروری میں کٹ جائے گی اوراس کے دانے پہلے اس کے گھر آجائیں گے۔پھر بارش کے ساتھ انبیا ء کی مشابہت میں اس امر کی طرف بھی اشارہ کیاگیا ہے۔کہ جب مادی بادل برستے ہیں توان کے برسنے سے ہرقسم کی روئیدگی ظاہر ہوناشروع ہوجاتی ہے۔بارش ایک ہی ہوتی ہے مگراسی بارش سے ایک طرف میٹھے پھل پیدا ہوتے ہیں اوردوسری طرف اسی بارش سے کڑوے پھلوں کو بھی نشوونماحاصل ہوتاہے۔بارش کا ایک ہی قطرہ جہاں انگور کوزیادہ شیریں بنادیتاہے۔جہاں آم کو زیادہ شیریں بنادیتاہے جہاں اور مختلف میٹھے پھلوںکو زیادہ شیریں بنادیتاہے وہاں بارش کاوہی قطرہ کیکر کو اورحنظل کو زیادہ تلخ بنادیتاہے۔کھٹی چیزوںکو زیادہ ترش بنادیتاہے۔وہی بارش کاقطرہ جو انسان کے اندر گوشت پیداکردیتاہے وہی قطرہ گھاس کے اند رروئید گی پیدا کرتاہے۔جنگل میں اگی ہوئی مختلف قسم کی جھاڑیاں اور جڑی بوٹیاں جن کے نام بھی ہمیں معلوم نہیں اور پہاڑیوں کی وادیوں میں پیدا ہونے والی بوٹیاں بھی اسی بارش سے اپنی روئیدگی کو ابھارناشروع کردیتی ہیں۔غرض بارش کاوہی قطرہ جہاں انسان کے اندر تروتازگی اور نموپیداکرتاہے وہاں وہ جنگل میں اگنے والی ہزاروں قسم کی جڑی بوٹیوں میں بھی روئیدگی پیداکردیتاہے۔یہی حال انبیاء علیہم السلام کے زمانہ میں بھی ہوتاہے۔یعنی جب روحانی بارش آسمان سے نازل ہوتی ہے تودونوں قسم کی روئیدگی ظاہرہوناشروع ہوجاتی ہے۔ایک طرف سویاہواکفر بھی بیدارہو جاتا ہے اوردوسری طرف ایما ن بھی تروتازہ ہو جاتا ہے کفربھی اس زمانہ میںاپنی شان دکھاناشروع کردیتاہے اورمخالف لوگوں کے اندر بھی ایک نئی قسم کی بیداری پیداہوجاتی ہے۔چنانچہ دیکھ لورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے آخر مکہ بھی وہی تھااورعرب بھی وہی تھا۔لیکن آپ کی بعثت سے قبل عرب کے سرداروں کاکوئی نظام معلوم نہیں ہوتا۔