تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 123

سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيْنَ اصْطَفٰى سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں پر ہمیشہ اس کی طرف سے سلامتی نازل ہوتی رہتی ہے۔اس لئے مومنوں کویہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جب بھی کسی نبی کانام لیں تواس کے ساتھ علیہ السلام کے الفاظ ضرور کہاکریں۔وہ لوگ جو حقیقت سے ناآشناہوتے ہیں بعض دفعہ ان دعائیہ کلمات کے متعلق سوال کردیاکرتے ہیں کہ انبیاء کے لئے سلامتی کی خاص طورپر کیوں دعاکی جاتی ہے جبکہ ان کا خدا تعالیٰ کے سایہء رحمت میں ہوناایک قطعی اوریقینی امر ہے۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ سلامتی توان کو بے شک حاصل ہے کہ وہ وفات پاکر اللہ تعالیٰ کے سایہ رحمت میں چلے گئے۔لیکن ایک اوربات ایسی ہے جس کے لحاظ سے ان کے مرنے کے بعد بھی ہمیشہ سلامتی کی دعاکرتے رہنا ضروری ہوتاہے اوروہ یہ کہ انبیاء دنیامیں ایک بہت بڑی روحانی جائیداد چھوڑ کرجاتے ہیں۔دنیوی جائدادیں تواگر نااہل ہاتھوں میں چلی جائیں تب بھی ان کی تباہی کااثر بہت محدود ہوتاہے لیکن انبیاء جو جائیداد چھوڑ جاتے ہیں اگراس کوگمراہی کا ذریعہ بنالیاجائے تو صدیوں تک لوگ گمراہ ہوتے چلے جاتے ہیں اس لئے ضروری ہوتاہے کہ ان کے لئے دعائوں کے سلسلہ کو ہمیشہ جاری رکھاجائے۔انہوں نے تووہ جائداد اس لئے چھوڑی ہوتی ہے کہ لو گ اس سے روشنی او رنور حاصل کریں۔مگرپیچھے آنے والے روشنی اورنور حاصل کرنے کی بجائے خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اوردوسروں کوبھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔چنانچہ دیکھ لوکئی قسم کے گناہ ہیں جوبنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ اور حضرت دائوداو رحضرت سلیمان اور حضرت لوط علیہم السلام کی طر ف منسوب کردیئے (پیدائش باب ۲ آیت ۱۳ تا ۱۹،پیدا ئش باب ۱۹ آیات ۳۱ تا ۳۵،ملوک اول باب ۱۱ آیت ۳،سموئیل باب ۱۱ آیت ۲۲۷)۔لوگ جب ان واقعات کو پڑھتے ہیں توکمزور طبع لوگ ان سے متاثر ہوتے ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ جب انبیاء نے اس طرح کرلیاتھاتوہم کیوں نہ کریں۔عیسائی یوں تومنہ سے دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بالکل معصوم اور بےگناہ تھے مگرتفصیلات میں وہ ان پر بھی الزام لگانے سے باز نہیں آئے۔چنانچہ وہ کہتے ہیں۔کہ ایک دفعہ وہ کسی کاگدھا بے پوچھے لے گئے اوراس پر سواری کرتے پھرے (مرقس باب ۱۱ و متی باب ۲۱)۔پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ و ہ لوگوں کو گالیاںدیتے اور انہیں کتے او رزناکار وغیرہ کہتے تھے (متی باب ۷ آیت ۶و متی باب ۲۵آیت ۲۶ و متی باب ۱۲ آیت ۳۹)۔اسی طرح کہتے ہیں کہ وہ لوگوں کے گناہ اٹھاکر صلیب پر لٹک گئے اوراس طرح نعوذ باللہ لعنتی بنے۔اورتین دن تک دوزخ میں رہے (نمبر ۱پطرس باب ۳ آیت ۱۸تا۲۰)۔پھر کہتے ہیں کہ وہ لوگوں کے سؤروں کے گلّے بغیر ان کے مالکوں کو کوئی قیمت دینے کے تباہ کردیاکرتے تھے (متی باب ۸ آیت ۲۸تا۳۲ و مرقس باب ۵)۔اسی طرح ہندوئوں کو لوتو و ہ حضرت کرشنؑ او رحضرت رامچندر جی کواپنا اوتار مانتے ہیں مگررامچندر جی کاسیتاسے جوسلوک بیان