تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 124
کرتے ہیں و ہ اگر ایک طرف رکھ لیاجائے اوردوسر ی طرف ان کی بزرگی ا ورنیکی دیکھی جائے تویہ تصور بھی نہیں کیاجاسکتا کہ انہوں نے ایسا فعل کیاہو گا مگر وہ حضر ت رامچندر جی کی طرف بغیر کسی جھجک کے یہ ظلم منسوب کرتے ہیں۔پھر حضرت کرشنؑ کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ مکھن چُراچُراکرکھایاکرتے تھے۔حالانکہ وہ خدا تعالیٰ کے نبی تھے (رامائن اتھر کاند اردو جلد ۷ صفحہ ۹۷۹،۹۸۰ سرک ۵۳ تا ۵۴ سیتاجی کی جلا وطنی)۔پس انبیاء جہاںہدایت پھیلانے کاذریعہ ہوتے ہیں وہاں شیطانی لوگ ان کو ایک قسم کی گمراہی اور شیطنت پھیلانے کابھی ذریعہ بنالیتے ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں انبیاء پر سلام کاخصوصیت سے ذکرکیاہے تاکہ ہم جب بھی ا ن انبیاء کانام لیں ساتھ ہی یہ دعابھی کیا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان فتنہ گروں کو تباہ کرے جوان کانام لے لے کر دنیا میں گمراہی پھیلاتے ہیں تاکہ ان کی کوششیں اکارت نہ چلی جائیں۔حدیثوں میں آتاہے۔کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مرض الموت سے بیمار ہوئے۔تو آپ اپنی آخری گھڑیوں میں بڑے اضطراب کے ساتھ کروٹیں بدلتے اور بار بار فرماتے کہ خدایہود اور نصاریٰ پر لعنت کرے کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔آخر یہ لازمی بات ہے کہ جب نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیاجائے گا تولوگوں میں توحید نہیں رہے گی۔اورشرک روز بروز بڑھتاچلاجائے گا۔پس انبیاء پرسلام اسی حکمت کی وجہ سے آیاہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے انوار اوربرکات کے سلسلہ کووسیع کرے اور وہ فتنہ گرتباہ ہوں جو ان کی روحانی جائیداد کو غارت کرنے والے ہیں۔اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ (بتائوتو)آسمانوں اورزمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ اور(کس نے )تمہارے لئے بادل سے پانی اتاراہے۔پھراس مَآءً١ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآىِٕقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ١ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ (یعنی پانی )کے ذریعہ سے ہم نے خوبصورت با غ نکالے ہیں۔تم ان (باغوں)کے درخت نہیں اگاسکتے تھے۔تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَّعْدِلُوْنَؕ۰۰۶۱ کیااللہ کے ساتھ اَوربھی معبود ہے (جوسب کائنات عالم کاانتظام کررہاہے)لیکن یہ (کافر)ایسی قوم ہیں جواس کے شریک بنارہے ہیں۔حل لغات۔حَدَآئِقَ۔حَدَآئِقَ حَدِیْقَۃٌ کی جمع ہے اور اَلْحَدِیْقَۃُ کے معنے ہیں اَلْبُسْتَانُ یَکُوْنُ