تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 107

کے نیچے پانی بہہ رہاتھا۔اس نے سمجھا کہ سچ مچ پانی بہہ رہاہے اورگھبراکر اس نے اپنے کپڑے اُڑس لئے اورپنڈلیاں ننگی کردیں۔اس طریق سے آپ نے معلوم کرلیا کہ واقعہ میں اس کی پنڈلیوں پر بال موجود ہیں۔اورپھر آپ نے ایک بال صفا پوڈر تیار کیا جس سے اس کے بال دور ہوئے(ابن کثیر )۔بعض کہتے ہیں۔پنڈلیوں کے بال دیکھنے کے لئے حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس قد رانتظام کیا کرناتھا اصل با ت یہ ہے کہ چونکہ انہوں نے ملکہ کاتخت منگوایاتھا انہیں خیا ل آیاکہ تخت منگوانے سے میری سبکی ہوئی ہے۔چنانچہ اس سبکی اکاازالہ کرنے کے لئے آپ نے یہ محل بنوایاتاکہ اپنی وقعت قائم کرسکیں۔مگرکیادنیاکاکوئی بھی سمجھدار انسان کہہ سکتاہے کہ یہ باتیں ایسی اہم ہیں کہ ان کا ذکر خدا تعالیٰ کے کلام میں اورخصوصاً آخری شریعت کلے حامل کلام میںہوناچاہیے تھا۔ان باتوں کاتو نہ دین سے تعلق ہے نہ عر فان سے اورنہ خدا تعالیٰ کے انبیاء ایسے لغو کام کیا کرتے ہیں۔اصل بات صرف اتنی ہے کہ ملکہ سباایک مشرکہ عورت تھی اورسورج پرست تھی۔حضرت سلیمان علیہ السلام چاہتے تھے کہ وہ شرک چھوڑ دے۔اس کے لئے آپ نے اسے زبانی بھی نصیحت فرمائی۔مگرپھرآپ نے چاہاکہ عملاً بھی اس کے عقیدہ کی غلطی اس پر ظاہر کریں۔چنانچہ اس کے لئے آپ نے یہ طریق اختیار کیاکہ اس کے قیام کے لئے آپ نے ایک ایسامحل تجویز فرمایا جس میں شیشہ کا فرش تھا اوراس کے نیچے پانی بہتاتھا۔جب ملکہ اس کے فرش پر سے گذر نے لگی تواسے شبہ ہواکہ یہ پانی ہے اوراس نے جھٹ اپنی پنڈلیوں پر سے کپڑااٹھالیا یااسے دیکھ کروہ گھبراگئی۔(کَشَفَ عَنْ سَاقٍ کے یہ دونوں معنے ہیں )اس پر حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسے تسلی دی اورکہا کہ بی بی !دھوکا مت کھائو۔جسے تم پانی سمجھتی ہو یہ تودراصل شیشہ کا فرش ہے اور پانی اس کے نیچے ہے۔چونکہ پہلے آپ دلائل سے شرک کی غلطی اس پر واضح کرچکے تھے اس نے فوراً سمجھ لیا کہ انہوں نے ایک عملی مثال دے کر مجھ پر شرک کی حقیقت کھول دی ہے اورسمجھایاہے کہ جس طر ح پانی کی جھلک شیشہ میں سےتجھے نظر آئی ہے اورتونے اسے پانی سمجھ لیاہے ایسا ہی خدا تعالیٰ کا نور اجرام فلکی میں سے جھلک رہاہے۔چنانچہ اس دلیل سے وہ بڑی متاثر ہوئی اور بے اختیار کہہ اٹھی کہ رَبِّ اِنِّيْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔یعنی اے میرے رب میں نے شرک کرکے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے۔اب میں سلیمانؑ کے ساتھ یعنی اس کے دین کے مطابق اس خدا پر ایمان لاتی ہوں جوسب جہانوں کارب ہے اورسورج اورچاند وغیرہ بھی اسی سے فیض حاصل کررہے ہیں۔