حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 94 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 94

گو رداسپور میں ایک موقع پر ایک شخص حضرت امام علیہ السلام کے متعلق مجھ سے کچھ سوال کرنے آیا۔میں نے جب اس سے یہ کہا کہ تم وہ معیار پیش کرو جس سے تم نے کسی کو راست باز مانا ہے۔تو وہ خاموش ہی ہو گیا۔اور سلسلہ کلام کو آگے نہ چلا سکا۔یہ بڑی پکّی اور سچی بات ہے کہ راست باز ہمیشہ ایک ہی معیار پر پرکھے جاتے ہیں۔اور ان میں کوئی نرالی اور نئی بات نہیں ہوتی۔چنانچہ ہمارے ہادیٔ کامل فخرِبنی آدم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وسلم کو ارشادب الہٰی یوں ہوا۔قُلْ مَاکُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ۔کہہ دے میں کوئی نیا رسول دنیا میں نہیں آیا …دنیا میں مجھ سے پہلے رسول آتے رہے ہیں۔تم نے اگر کسی کو راست باز اور صادق مانا ہے۔تو جس قاعدہ اور معیار سے مانا ہے۔تو وہی قاعدہ اور معیار میرے لئے بس ہے۔مَیں نے قرآن شریف کے اس استدلال کی بناء پر بارہا۔ان لوگوں سے جو حضرت میرزا صاحب کے متعلق سوال اور بحث کرتے ہیں۔پوچھا کہ تم نے کبھی کسی کو دنیا میں راستباز اور صادق تسلیم کیا ہے یا نہیں۔اگر کیا ہے تو وہ ذریعے ار معیار کیا تھے؟ جن ذریعوں سے تم نے صادق تسلیم کیا ہے۔پھر میرا ذمہ ہو گا کہ اس معیار پر اپنے صادق امام کی راست بازی اگر صداقت ثابت کر دوں۔میں نے بارہا اس گُر اور اصول سے بُہتوں کو لاچواب اور خاموش کرایا ہے۔اور یہ میرا مجرّب نسخہ ہے۔اس راہ سے اگر چلو تم تمام مباحث کا دو لفظوں میں فیصلہ کر دو۔گورداسپور کا جو واقعہ میں نے بیان کیا ہے۔جو لوگ میرے ساتھ تھے۔انہوں نے دیکھا ہے کہ باوجودیکہ سوال کرنے والا بڑا چلبلا اور جالاک آدمی تھی۔مگر میرے اس سوال پر وہ کچھ بھی نہ کہہ سکا بعض آدمیوں نے اس کو کہا بھی کہ تم کسی کا نام لے دو۔اس نے یہی کہا کہ مَیں نام لیتا ہوں تو مرتا ہوں ( یعنی مانا پڑتا ہے اور لاجواب ہوں گا) غرص یہ ایک سنت اﷲ ہے۔خدا کا اٹل قانون ہے۔کہ جب دنیا پر ضلالت کی آظلمت چھا جاتی ہے اور یہ بے دینی اور فسق و فجور کی رات اپنی انتہاء تک پہنچ جاتی ہے۔تو اسی قانون کے موافق جو ہم رات دن دیکھتے ہیں کہ رات کے آخری حصّہ میں آسمان پر صبح صادق کے وقت روشنی کے آثار نظر آنے لگتے ہیں۔کوئی آسمانی نور اترتا ہے اور دنیا کی ہدایت اور روشنی کا موجب ٹھہرتا ہے۔اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ جب امساکِ باراں حد سے گزرتا ہے۔جس کا نام عام لوگوں نے ہفتہ رکھا ہے کہ سات سال سے زیادہ نہیں گزرتا تو سمجھنے والا سمجھتا ہے کہ اب بارش ضرور ہو گی۔اس قسم کے نشانات خدا تعالیٰ کے ایک اٹل اور مستقل قانون کا صاف پتہ دیتے ہیں۔اگر آنکھ بالکل بند نہ ہو۔اگر دل بالکل سویا ہوا نہ ہو تو اس بات کا سمجھ لینا کہ روحانی نظام بھی اسی طرح واقع ہے کچھ مشکل نہیں مگر یہ آنکھ بصیرت اور دل کی بیداری بھی اﷲ تعالیٰ ہی کے فضل پر موقوف ہے۔مَیں غور کرتے کرتے اس