حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 93
اسی لئے کتاب کے بعد تزکیہ کا ذکر کر دیا۔اور چونکہ رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ خَیْرُالْقُرُوْنِ قَرْنِیْ اور پھر دوسری اور تیسری صدی کو خیرالقرون کہا۔اس کے بعد فرمایا کہ ثَمَّ یَفْشُو الْکَذِبُ۔اب ایک نادان اور خدا کی سنّت سے ناواقف کہہ سکتا تھا کہ آپ کی قوّت قدسی معاذ اﷲایسی کمزور تھی۔کہ تین صدیوں سے آگے مؤثر نہ رہی۔اس لئے اﷲ تعالیٰ نے ایسے کو رباطن کے جواب کے لئے فرمایا: وَ اٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْابِھِمْ۔آپؐ کی قوّت قدسی ایسی مؤثراور نتیجہ خیز ہے کہ تیرہ سو سال کے بعد بھی ویسا ہی تزکیہ کر سکتی ہے چنانچہ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْابِھِمْ کا وعدہ فرمایا یعنی ایک اور قوم آخری زمانہ میں انے والی ہے جو بلاواسطہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے فیص اور برکات حاصل کرے گی۔اور ایک بار اور ہم اسی رسول کی بعثت بروزی کریں گے۔وہ بعثت بھی اسی کے ہم رنگ ہو گی جو فِی الْاُمِّیِّیْنَ رَسُوْلًاکے وقت تھی۔احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ امّت کے اعمال آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو پہنچائے جاتے ہیں۔پس سوچو کیسی تڑپ آپؐ کو پیدا ہوئی ہو گی۔جب آپؐ کو بتایا گیا ہو گا کہ اس قسم کے ہاشیے چڑھائے جاتے ہیں۔جن سے امرِ حق کو شناخت کرنا قریباً مہال ہو گیا ہے اور وہ باتیں داخلِ اسلام کر لی گئی ہیں۔جن کا اسلام سے کوئی تعلق اور واسطہ نہ تھا۔اس لئے اﷲتعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ ابس معلّم کو دوبارہ بھیج دیں گے۔فِی الْاُمِّیِّیْنَ رَسُوْلًاکی بعثت کریں گے۔اس کی توجہ ان پر ڈالیں گے جو لَمَّا یَلْحَقُوْابِھِمْ کے مصداق ہیں یعنی ابھی نہیں آئے۔آنے والے ہیں۔۱؎ یہ سنّت اﷲ اور استمراری عادت اﷲ ہے۔کہ جب دنیا میں بدی پھیلتی ہے۔بدی کیسی؟ لکھے پڑھے بھی بند ر اور سؤر اور عبدالطاغوت ہو جاتے ہیں۔خدا کا خوف دلوں سے اُٹھ جاتا ہے اور انسانیت مسک ہو کر حیوانیٔت اور بہیمیت سی ہو جاتی ہے تو اﷲ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے تباہ شدہ مخلوق کی دستگیری کے لئے ایک مامور دنیا میں بھیجتا ہے۔جو آ کر ان کی گم شدہ متاع پھر ان کو دیتا ہے۔اور خبیثوں اور طیّب لوگوں میں امتیاز ہو جاتا ہے۔اس قاعدہ کو مدّنظر رکھ کر صاف اشارہ ملتا ہے۔کہ خدا تعالیٰ کس وقت معلّم اور مزکّی کو بھیجتا ہے؟ اس کی شناخت کا کیا طریق اور نشان ہونا چاہیئے؟ یہ بڑی بھاری غلطی پھیلی ہوئی ہے۔کہ جب کوئی مامور دنیا میں آتا ہے تو ناواقف اور نادان انسان اپنے کمزور خیال کے پیمانہ اور معیار سے اس کو پرکھنا چاہتے ہیں۔حالانکہ اس کو پرکھنے کے لئے وہ معیار اختیار کرنا جاہیئے جو راست بازوں کے لئے ہمیشہ ہوتا ہے۔۱؎ الحکم ۱۷ستمبر۱۹۰۲ء صفحہ۹۰۷