حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 95 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 95

نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مامور من اﷲ اور راست باز کی شناخت کے لئے ہر قسم کے دلائل مل سکتے ہیں۔اَنفُسی اور آفاقی دونوں قسم کے دلائل ہوتے ہیں، یعنی اندرونی اور بیرونی دلائل۔اندرونی دلائل میں سے ایک عقل بھی ہے پھر اسی کے ساتھ نقل کا پتہ لگا سکتے ہیں اور اسے سمجھ سکتے ہیں۔اگر اپنی عقل یا نقل کافی نہ تو دوسرے عقیل اور فہیم لوگوں سے سُن کر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔بارہا میرے دل میں یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ عقل مقدّم ہے یا نقل؟ اور کیا ان دونوں میں کوئی تعارض اور تناقض تو نہیں؟ میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ سماعی چیزوں پر بھی عقل فیصلہ دیتی ہے۔جیسے فرمایا گیا ہے لَوْ کُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَاکُنَّا فِیْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ اور پھر عقلِ صریح اور نقلِ صحیح میں ہرگز کوئی تعارص نہیں ہوتا۔دونوں کا ایک ہی فیصلہ ہے۔اور عقل مقدّم ہے۔کیونکہ انسان مکلّف نہیں ہو سکتا۔جب تک سوچنے اور سمجھنے نہ لگے۔پس اب ہم اس مدّعی کے دعوے کے امتیاز کے لئے عقلی اور نقلی دلائل سے اگر فیصلہ چاہیں تو یقینا اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ واقعی یہ خدا کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہے۔عقل سے پہلے ہمیں یہ معلوم کرنا ہو گا۔کہ کیا اس وقت کسی کے آنے کی ضرورت ہے یا نہیں؟ تو جیسا کہ مَیں پہلے بیان کرچکا ہوں۔خدا تعالیٰ کا مستقل اور اٹل قانون ہمیں بتاتا ہے کہ اس کی طرف سے ایسے وقت پر مامور آتے ہیں اور آنے جاہئیں۔اور پھر جب ہم نقل سے اس کا موازنہ کرتے تو نقلب صحیح ہم کو بتاتی ہے کہ یہ وقت خدا کے ایک مامور کے آنے کا ہے۔تمام کشوف اور رؤیا اور الہام اس پر شہادت دیتے ہیں کہ مسیہ موعود اور مہدی کا زمانہ چودہویں صدی سے آگے نہیں۔ہر صدی پر مجدّد کے انے کا وعدہ بجائے خود ظاہر کرتا ہے۔کہ ایک عظیم الشان مجدّد اس وقت ہونا چاہیئے اور چونکہ صلیبی فتنہ کثرت سے پھیلا ہوا ہے۔اس لئے اس صدی کے مجدّد کا نام بہرحال کا سرالصلیب ہی ہو گا۔خواہ وہ کوئی ہو۔اور پھر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں میں کا سرالصلیب جس کا نام رکھا گیا ہے۔وہ وہی ہے جس کو دوسرے الفاظ میں مسیح موعود کہا گیا ہے۔اور اسی طرح سے خدا تعالیٰ کے پاک کلام پر جب ہم نگاہ کرتے ہیں تو اور بھی صفائی کے ساتھ یہ بات کُھل جاتی ہے کہ اُس نے وعدہ کیا کہ اِسی اُمّت میں سے خلفاء کا ایک سلسلہ اُسی نہج اور اسلوب پر قائم ہو گا۔جیسے بنی اسرائیل میں ہوا اور پھریہ بھی کھول کر بیان کیا گیا کہ ہمارے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم اس دعوٰی اور پیشگوئی کے مطابق جو استثناء کے باب ۱۸ میں کی گئی تھی مثیل موسٰی ہیں۔اور قرآن نے خود اس دعوٰی کو لیا۔ (المزمل:۱۶)اب جب کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم مثیلِ موسٰی ٹھہرے اور خلفائِ مُوسویہ کے طریق پر ایک سلسلہ خلفاء محمدیہؐ کا خدا تعالیٰ نے قائم کرنے کا وعدہ کیا جیسا کہ سورۂ نور میں فرمایا: