حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 86
باہر تھی۔دنیا پرستی بہت غالب ہوئی تھی۔ان کے بڑے بڑے سجادہ نشین احبار اور رُھْبان کو اپنی گدّیاں چھوڑنا مہال نطر آتا تھا۔خدا تعالیٰ نے بڑے بڑے لوگوں کا ذکر کیا۔کیونکہ اُس سے چھوٹوں کا خود اندازہ ہو سکتا تھا …اگر ہم ایک نمبردار کی ہالت بیان کریں کہ لایک قحط میں اُس پر فاقہ کشی کی مصیبت ہے تو اس سے چھوٹے درجے کے زمیندار کا حال خود بخود معلوم ہو جاتا ہے۔قرآن شریف نے نہایت جامع الفاظ میں فرما دیا ہے۔کہ ( الروم: ۴۲) جنگلوں اور سمندروں میں غرص ہر جگہ پر فساد نمودار ہو چکا ہے۔وہ جو اپنے آپ کو ابراہیم کے فرزند کہلاتے تھے اُن کی نسبت قرآن ہی نے خود شہادت دی ہے۔ (التوبہ:۸) ۱؎ الحکم ۳۱؍اگست ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۰،۱۱،۱۲ ان میں اکثر لوگ فاسق تھے۔اور یہاں تک فسق و فجور نے ترقی کی ہوئی تھی کہ ( المائدۃ: ۶۱) یہ اُس وقت کے لکھے پڑھے علماء سجادہ نشین خدا کی کتابِ مقدّس کے وارث لوگوں کا نقشہ ہے کہ وہ ایسے ذلیل اور خوار ہیں۔جیسے بندر۔اور ایسے شہوت پرست اور بے حیا ہیں جیسے کنزیر۔اس اندازہ کرو۔ان لوگوں کا جو لکھے پڑھے نہ تھے۔جو کتابِ مقدّس کے وارث نہ تھے۔جو موسٰی کی گدّی پر نہ بیٹھے ہوئے تھے۔پھر یہ تو ان کے اخلاق۔یہ عاداتِ بَد یا عزّت و ذلّت کی حالت کا نقشہ ہے۔اگرچہ ایک دانش مند اخلاقی حالت اور عُرفی حالت کو ہیے دیکھ کر روحانی حالت کا پتہ لگا سکتا ہے۔مگر خود خدا تعالیٰ نے بھی بتا دیا کہ روحانی حالت بھی ایسی کراب ہو چکی تھی۔کہ وہ عبدۃ الطاغوت بن گئے تھے۔یعنی حدود الہٰی کے توڑنے والوں کے عہد بنے ہوئے تھے۔اُن کے معبود طاغوت تھے۔اب خیال کرو کہ اخلاقی حالت پر وہ اثر،رُوح پر یہ صدمہ ، عزّت کی وہ حالت ، یہ ہے وہ قوم جو کہنے والی۔تھی۔اس سے چھوٹے درجہ کی مخلوق کا خود قیاس کر لو۔یہ نقشہ کافی ہے عقائد کے سمجھنے کے لئے ، یہ کافی ہے عزّت و آبرو کے سمجھنے کے لئے کہ جو بندر کی عزّت ہوتی ہے۔پھر یہ نقشہ کافی ہے اخلاق کے معلوم کرنے کے لئے جو خنزیر کے ہوتے ہیں کہ وہ سارا بے حیائی اور شہوت کا پُتلا ہوتا ہے۔جب ان لوگوںکا حال میںنے سنایا جو(المائدۃ:۱۹)کہتے ،جو ابراہیمؑ کے فرزندہ کہلاتے تھے۔تو عیسائیوں پر قیاس کر لو، اُن کے پاس تو کوئی کتاب ہی نہ رہی تھی، اور کفّارہ کے اعتقاد نے ان کو پوری ٗآزادی اور اباحت سکھا دی تھی۔اور عربوں کا حال تو ان سہ سے بدتر ہو گا،جن کے پاس آج تک کتاب اﷲپہنچی ہی نہ تھی۔اور پھر یہ خصوصیت سے عرب ہی کا حال نہ تھا۔ایران میں آتش پرستی ہوتی تھی۔سچّے خدا کو چھوڑ دیا ہوا تھا، اور اہرمن اور یزدان دو جُدا جُدا خُدا مانے گئے تھے۔ہندوستان کی حالت اس سے بھی بدتر تھی جہاں پتھروں، درختوں کی پُوجا اور پرستش سے تسلّی نہ پا کر آخر عورتوں اور مردوں کے شہوانی قوٰی تک پرستش جاری ہو چکی تھی۔غرض جس طرف نظر اٹھا کر دیکھو،جدھرنگاہ دوڑاؤ، دنیا کیا بلحاظ