حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 56
میں کفروفسق نہ ہو گا۔صحابہ کرام آپؐ کے عہدِ سعادت مہد میں یہ تفرقہ عملاً دکھاتے تھے۔بریرہ نام ایک غلام عورت تھی۔جب وہ آزاد ہو گئی۔وہ اپنے خاوند سے جو ایک غلام تھق بیزار ہو گئی۔مگر اس کا شوہر اس پر قدا تھا۔اور اس کی علیحدگی کو گوارانہ کرتا تھا۔وہ اس پر سخت کبیدہ خاطر ہوا۔اور آنجناب کی خدمتِ اقدس میں ہاضر ہو کر اس امر کی شکایت کی۔آپؐنے بریرہ سے اس کے ساتھ مصالحت کرلینے کو ارشاد فرمایا۔بریرہ نے جواب دیا۔آپ یہ وحی سے فرماتے ہیں یا عہدہ نبوّت سے علاوہ بطور مشورہ کے فرماتے ہیں۔آپؐ نے فرمایا میں رسالت کے لحاظ سے یہ حکم نہیں دیتا۔اپنی ذاتی رائے سے تجھے کہتا ہوں۔اس نے نہ مانا اور کہا مجھے اختیار حاصل ہے۔اسی طرح (کہف:۱۱۱) اس آیت میں شرک سے ممانعت اور اس امر کا بیان ہے کہ میں ایک بسر ہوں بشریت میں تمہاری مثل ہوں۔خبردار کبھی شرک نہ کرنا۔مجھے خدا نہ کہہ بیٹھنا۔نہ میری عبادت کرنا۔اﷲ تعالیٰ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرنا۔اور ایسا ہی ان آیات کریمہ میں غور کرنے والا یقین کر سکتا ہے کہ اسلام کہاں تک شرک سے بیزاری ظاہر کرتا ہے۔( تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۲۳۰ تا ۲۳۵) ۲۲۔ ۔دوڑو اپنے ربّ کی معافی کی طرف اور بہشت کی جس کا پھیلاؤ ہے۔جیسے پھیلاؤ آسمان اور زمین کا۔رکھی گئی ہے ان کے واسطے جو یقین لائے ا پر اور اس کے رسولوں پر۔یہ بڑائی ا ﷲکی ہے۔دیوے اس کو جس کو چاہے اور اﷲ کا فضل بڑا ہے۔(فصل الخطاب حصّہ دوم صفحہ۱۳۱) جنّت کے متعلق عام طور سے یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے۔کہ وہ آسمان پر ہے لیکن ۔پر غور کریں تو بالجزم ایسا نہیں کہہ سکتے۔کیونکہ