حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 55
لئے عام احکامِ بشریت میں اگر چہ عامّہ بشر سے اشتراک رکھتے ہیں۔کیکن اپنی خصوصیتِ رسالت۔نبوّت۔اصلاح قوم کے احکام میں عامہ خلائق سے ضرور جدا ہوتے ہیں۔بلاتشبیہ ایک مفتوح ملک کی رعایا کے ساتھ ایک فاتہ اور ہکمران گورنمنٹ کا سپہ سالار یا مجاز حاکم اپنی گورنمنٹ کے حکم سے کوئی معاہدہ کرے اور اس رعایا کو اپنی گورنمنٹ کے احکام سُنا دے۔تو اگر اس مفتوح رعایا کے لوگ ان معاہدات اور احکام کی تعمیل نہ کریں۔تو ضرور وہ رعایا اس گورنمنٹ کی مجرم۔باغی۔غدّار۔نافرمان ٹھہرے گی۔مگر وہی سپہ سالار اور گورنمنٹ کا ماتحت حکمران اس رعایا کو کوئی اپنا ذاتی کام بتا دے۔اور اپنے طور پر ان رعایا میں سے کسی سے کوئی معاہدہ کرے اور اس رعایا کا آدمی اس سپہ سالار اور اس حاکم کی بات نہ مانے یا معاہدہ کا خلاف کرے تو یہ شخص جو اس سپہ سالار اور گورنمنٹ کے ماتحت حکمران کے معاہدہ اور حکم کا مخالف ٹھہرا ہے۔گورنمنٹ کی بغاوت کا مجرم نہ ہو کیونکہ پہلی قسم میں اس سپہ سالار اور ہاکم کے احکام۔فاتح گورنمنٹ کے احکام ہوا کرتے ہیں۔اور اس سپہ سالار کی زبان فاتح گورنمنٹ کی زبان۔اس کی تحریرفاتح گورنمنٹ کی تحریر ہوا کرتی ہے۔غور کرو۔ایک قاتل کو مجاز ہاکم کے حکم سے قتل کرنے والے یا پھانسی دینے والے کے ہاتھ اسی گورنمنٹ کے ہاتھ ہوتے ہیں جس کے حکم سے قاتل کو قتل کرنے والے اور پھانسی دینے والے نہ قتل کیا اور پھانسی دیا۔در صورت دیگر وہی پھانسی دینے والا کسی اور ایسے آدمی کو جس پر اس گورنمنٹ نے موت کا فتوٰی نہیںدیا۔قتل کر کے دیکھ لے۔کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔پس اسی طرہ اﷲ تعالیٰ کے رسولوں کی بھی دو ہالتیں ہیں۔اور دو جہتیں ہیں ایک حالت و جہت میں وہ آدمی ہیں بشر ہیں۔اور دوسری ہالت ان کی رسالت و نبوت کی ہے۔جس کے باعث وہ رسول ہیں۔نبی ہیں۔الہٰی احکام کے مظہر اور احکام رساں ہیں جس کے باعث ان کو پیغامبر کہتے ہیں پہلی حالت و جہت سے اگر وہ حکم فرما دیں تو اس حکم کا منکر باغی۔منکرِ رسول نہ ہو گا۔جس کو شرعی اصطلاہ میں کافر۔فاسق۔فاجر کہتے ہیں اور دوسری حالت و جہت سے اگر کوئی ان کے حکم کو نہ مانے تو صرور ان کے نزدیک اس پر بغاوت۔انکار کا جرم قائم ہو گا اور ضرور وہ کافر،فاسق، کہلا وے گا اس جہت سے چونکہ وہ کداوندی اہکام کے مظہر ہیں اور جس سے معاہدہ کرتے ہیں اس سے خدا کے حکم سے معاہدہ کرتے ہیں۔اور معاہدہ کنندہ جو معاہدہ ان سے کرتا ہے۔وہ اصل میں باری تعالیٰ سے معاہدہ کرتا ہے۔پس اگر معاہدہ کنندہ معاہدہ کے خلاف کرے تو باغی و منکر بلکہ کافر ہو گا۔نبیٔ عرب محمد بن عبداﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے رسالت و نبوّت کا دعوٰی کیا اور اپنے آپ کو اﷲ تعالیٰ کا رسول بتایا۔اب ان کو جن لوگوں نے نبی و رسول مانا اور ان کے احکام کو الہٰی احکام یقین کیا۔لامحالہ آپؐ سے ان کا معاہدہ حقیقۃً اﷲ تعالیٰ سے معاہدہ ہو گا۔ہاں جو احکام اور مشورے اس عہدہ رسالت کے علاوہ فرماویں ان احکام کی خلاف ورزی