حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 559
لوگوں نے دھوکہ کھایا ہے۔اور وہدتِ وجود کی طرف جھک گئے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ ہر ایک چیز جو ہم کو نظر آتی ہے، خدا ہے۔ہر ایک آدمی خدا ہے اور صرف خدا ہی ہے، باقی اَور کچھ نہیں۔حضرت اقدس مرزا صاحب مسیح موعودؑ فرمایا کرتے تھے کہ یہ عقیدہ بالکل غلط ہے۔یہ لوگ خود خدا تعالیٰ کے خالق بنتے ہیں، اور اپنی عقل سے خدا تعالیٰ کی کیفیت پر ایک احاطہ کرنے کا دعوٰی کرتے ہیں۔گویا انہوں نے مانند ایک جرّاح کے خدا کو نعوز باﷲ چیر پھاڑ کر دیکھ لیا ہے۔اور اس کی تمام ہالت پر آگاہ ہو گئے ہیں۔یہ بہت بُرا عقیدہ ہے۔ہاں وحدتِ شہود کا عقیدہ درست ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ انسان کے دل میں اﷲ تعالیٰ کی محبت اور عظمت ایسی بیٹھ جائے کہ دوسرے کی اس کو پرواہ ہی نہ رہے۔اور خدا تالیٰ کے ساتھ عشق اور محبت کا ایسا درجہ حاصل ہو جائے کہ بغیر خدا تعالیٰ کے ہر شے اس کو ہیچ نظر آئے اور خدا تعالیٰ کی وحدت پر اس کو پورا یقین ہو کہ وہی ایک اس قابل ہے جس کی عبادت کی جاوے۔در اصل تمام بدیوں کی جڑھ شرک ہی ہے۔جلی ہو یا خفی۔جب انسان کسی دوسرے انسان کو اپنا حاجت روا یقین کرتا ہے اور اس کی طرف اس طرہ جھکتا ہے کہ گویا اس کے بغیر اس کا کام کرنیوالا نہیں تو وہ توحید کے برخلاف اپنا قدم رکھتا ہے اور ایک شرک میں گرتا ہے۔صاف وہ ہے جو ہر حال میں اپنے خدا پر اپنے یقین کو قائم رکھتا ہے اور اسی پر اس کا بھروسہ ہوتا ہے۔چیْست ایماں؟ وحدہٗ پند اشتن! کار حق را ، باخدا بگذاشتن (بدر ۳۰؍اگست و ۶ ؍ستمبر ۱۹۰۶، ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۲؍دسمبر۱۹۱۲) اس سورۃکے فضائل میں سے ایک یہ بھی حدیثب صحیح سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سورث ثواب میں قرآن شریف کے تیسرے حصّہ کے برابر ہے۔یہ بات بالکل سچی اور بہت ہی سچی ہے۔اس واسطے کہ قرآن شریف مشتمل ہے اﷲ تعالیٰ کی ذات صفات کے مضامین، دنیوی امور یعنی اخلاقی، معاشرتی، تمدّنی اور پھر بعد الموت یعنی قیامت کے متعلقہ مضامین پر۔اس سورۃ میں چونکہ اﷲ تعالیٰ کی صفات اور اس کی ذات کے متعلق ہی ذکر ہے۔اسی طرح سے بلحاظ تقسیم مضامین یہ سورۃ قرآن شریف کے ۱ ؍ ۳ کے برابر ہے یعنی قرآن کریم کے تین اہم اور ضروری مضامین میں سے ایک مضمون کا ذکر اس سورۃ میں کیا گیا ہے۔دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی کتاب سورث فاتحہ سے جو کہ قرآن شریف کی کلید اور امّ الکتاب ہے اور یہ امّ الکتاب ضالیّن پر ختم ہوئی ہے۔ضآل کہتے ہیں کسی سے محبت بے جا کرنے کو۔یا جہالت سے کام لینے اور سچّے علوم سے نفرت اور لاپرواہی کرنے کو۔صرف دو شخص ہی ضآّل کہلاتے ہیں۔ایک تو وہ جو کسی سے بے جا محبت کرے۔دوسرا وہ جو سچّے علوم کے حصول سے مضائقہ کرے۔