حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 560 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 560

انسان ہر روز علم کا محتاج ہے۔سچائی انسان کے قلب پر علم کے ذریعہ سے ہی اثر کرتی ہے۔پس جو علم نہیں سیکھتا، اس پر جہالت آتی ہے اور دل سیاہ ہو جاتا ہے۔جس سے انسان اچھے اور بُرے ، مفید اور مُضر، نیک اور بد، حق و باطل میںتمیز نہیں کر سکتا۔حدیث میں آیا ہے کہ ضآل نصارٰی ہیں۔دیکھ لو انہوں نے اپنی آسمانی کتاب کو کس طرح اپنے تصرّف میں لا کر ترجمہ در ترجمہ، ترجمہ در ترجمہ کیا ہے۔کہ اب اصل زبان کا پتہ ہی نہیں لگتا۔صاف بات ہے کہ ترجمہ تو خیال ہے مترجم کا۔غرض الہٰی اور کتبِ سماوی میں انہوں نے ایسا تصرّف کیا اور جہالت کا کام کیا ہے۔کہ وہ اصل الفاظ اب ملنے ہی محال ہیں۔دوسری طرف حضرت مسیحؑ کی محبت میں اتنا غلّو کیا ہے کہ ان کو خدا ہی بنا لیا اور اس سورۃ میں اس قوم نصارٰی کا ذکر ہے۔اور یہ سورث قرآن شریف کے آخر میں ہے اور یہ ضاّل کی تفسیر ہے۔اور ضاّل کا لفظ امّ الکتاب کے آکر میں ہے۔پس اس طرح سے امّ الکتاب کے آکر کو قرآن کے آکر سے بھی ایک طرح کی مناسبت ہے۔ایک صحابیؓ جو کہ میرا اپنا خیال ہے کہ غالباً وہ عیسائیوں کے پڑوس میں رہتا ہو گا۔وہ اس سورۃ کا ہر نماز میں التزام کیا کرتا تھا بلکہ خود آنحضرتؐ نے بھی اس کی طرف توجہ دلائی ہے۔چنانچہ آپ صبح کی سنتوں میں غالباً زیادہ تر اور (الاخلاص) ہی پڑھا کرتے تھے۔معرب کی نماز ( جو کہ جہری نماز ہے) میں اوّل رکعت میں اور دوسری رکعت میں (الاخلاص) اکثر پڑھا کرتے تھے۔وتروں میں بھی آنحضرتؐ کا یہی طریق تھا۔چنانچہ پہلی رکعت سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی ( سورۃ الَاعْلٰی) دوسری میں (سورۃ الکافرون) اور تیسری (الاخلاص) بہت پڑھا کرتے تھے۔غرض نماز کے اندر اور نماز کے علاوہ اَو رَاد میں اس سورہ شریفہ کی بڑی فضیلت آئی ہے۔تو کہہ دے ( اور جو اس کا کہنے والا ہے) اﷲ ہے اور وہ واحد ہے ساری ہی صفاتِ کاملہ سے موصوف اور ساری بدیوں سے منزّہ ذات بابرکات ہے۔یہ پاک نام اور اس کے رکھنے کا فخر ضرف صرف عربوں ہی کو ہے۔اﷲ کا لفظ انہوں نے خاصل کر کے صرف صرف خدا کے واسطے خاص رکھا ہے اور ان کے کسی معبود ، بُت، دیویگ دیوتا پر انہوں نے کبھی بھی استعمال نہیں کیا۔مشرک عربوں نے بھی اور شاعر دعربوں نے بھی بجُز خدا کی ذات کے اس لفظ کا استعمال کسی دوسرے کے حق میں نہیں کیا۔کواہ وہ کتان ہی بڑا اور واجب التعظیم اُن کو کیوں نہ ہو۔یہ فخر بجُز عرب کے اور کسی ملک اور قوم کو میسّر نہیں۔