حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 558 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 558

اورغیر اﷲ کی محبت اور خوف کو دلوں سے نکال کر انسان کو کدا کا بندہ بنا دیں کیونکہ در اصل تمام بدیاں اور گناہ اسی سے شروع ہوتے ہیں۔کہ انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کے سوائے کسی دوسری چیز کی محبت یا اس کا خوف غالب آ جاتا ہے۔حصرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بار ہا فرمایا کرتے تھے۔کہ کیا سبب ہے کہ ایک انسان جب جانتا ہو کہ سوراخ کے اندر ایک زہریلا سانپ ہے۔تو وہ ہرگز اس سوراخ میں اپنی انگلی انہیں ڈالتا۔اور جب جانتا ہے کہ اس زہر کے کھانے سے مَیں مر جاؤں گا۔تو خواہ کتنا ہی کوئی زور لگائے اس زہر کو ہرگز منہ پر نہیں لا سکتا۔تو پھر کیا سبب ہے کہ انسان باوجود اس اقرار کے کہ خدا ہے اور ایک واحد خدا سب کا مالک اور خالق ہے۔پھر گناہ کرتا ہے اس کا سبب یہی ہے کہ معرفت الہٰی اس کو پورے طور سے حاصل نہیں جب معرفت پورے طور سے حاصل ہو جائے تو پھر ممکن ہی نہیں کہ انسان گناہ کے نزدیک جا سکے۔بخاری شریف میں ایک حدیث آئی ہے۔حضرت انسؓ سے روایت ہے۔کہ ایک مرد انصاری مسجد قبا میں امامت نماز کی کرتا تھا۔نماز پڑھانے کے وقت جب کوئی حصّہ قرآن شریف کا پڑھتا تو اس کو سورۃ اخلاص کے ساتھ یعنی پہلے سورۃ اخلاص پڑھتا اور بعد اس کے کوئی اور سورث یا کوئی حصّہ قرآن شریف کا پڑھتا اور ہر رکعت میں وہ ایسا ہی کرتا۔دوسرے اصحاب اس معاملہ میں اس پر اعتراض کرتے اور کہتے کہ کیا تو دوسری سورتوں کو کافی نہیں سمجھتا کہ اس سورث کو بہر حال ساتھ ملا ہی دیتا ہے اور بسا اوقات اُسے کہتے کہ تو اس سورۃ کا بار بار ہر رکعت میں پڑھنا چھوڑ دے۔وہ ہمیسہ یہی جواب دیتا کہ تمہارا اختیار ہے کہ مجھے امام بناؤ یا نہ بناؤ۔میں تمہاری امامت چھوڑ دیتا ہوں لیکن اس سورۃ شریف کا پڑھنا ترک نہیں کر سکتا۔لوگ اس کو دوسروں سے افضل جانتے تھے اور بہر حال اس کو ہی امام بنانا پسند کرتے تھے۔اس واسطے یہ جھگڑا اسی طرح۔سے رہا۔یہاں تک کہ ایک موقع پر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم تک بات پہنچائی گئی۔آنحضرت نے اس کو بلایا اور فرمایا۔کہ اے فلا نے تجھے کون سی بات اس سے مانع ہے کہ تُو اپنے ساتھیوں کا کہنا مانے اور ہر رکعت نماز کے اندر تو نے سورۂ اخلاص کا پڑھنا کس واسطے اکتیار کیا ہے۔اس نے عرض کی۔یا رسول اﷲ اِنِّیْ اُحِبُّھَا مجھے یہ سورۃ پیاری لگتی ہے۔تب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا۔حُبُّکَ ابیَّاھنا اَدْخَلَکَ الْجَنَّۃَ اس کا پیار کرنا تجھے جنت میں داخل کر دیگا۔فقط اس کی وجہ یہی ہے کہ اس سورۃ شریفہ کے ساتھ محبت کرنا خدا تعالیٰ کی توحید کے ساتھ محبت کرنا ہے ار اپنے آپ کو محتاج جان کر ایک خدا کی طرف اپنی احتیاج کو لے جانا۔جو شخص تمام دنیا کو چھوڑ کر خدا کی طرف جھکتا ہے۔خدا تعالیٰ اس کو دنیا و مافیہا سے بے احتیاج کر دیتا ہے اور اپنے فضل سے اس کے سارے کام پورے کر دیتا ہے۔اﷲ تعالیٰ کی توحید کے عقیدہ میں کمال پیدا کرنا انسان کو تمام مشکلات سے باآسانی نکال کر لے جاتا ہے۔لیکن اس میں بعض ناواقف