حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 553 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 553

۱۷۔صمد وہ ہے جو تمام صفات میں اور تمام افعال میںکامل ہو ( سعید بن جبیر) ۱۸۔صمد وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو ( جعفر صادق) ۱؎ ۱۹۔صمد وہ ہے جو سب سے مستغنی ہو ( ابوھریرہ) ۲۰۔صمد وہ ہے کہ خلقت اس کی کیفیت پر مطلع ہونے سے ناامید ہو۔۱؎ ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۲؍ دسمبر ۱۹۱۲ء ۲۱۔صمد وہ ہے جو نہ جنتا ہے اور نہ اس کو کسی نے جنا۔کیونکہ جو جنتا ہے۔لامحالہ اس کا وارث ہوتا ہے۔اور جو کود جنا گیا ہے۔وہ ضرور مرتا ہے گویا صمد کے بعد کلمہ لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ۔اس کا بیان، معنی اور تشریہ ہے۔( البوالعالیہ) ۲۲۔حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں۔اِنَّہُ الْکَبِیْرُ الَّذِیْ لَیْسَ فَوْقَہٗ اَحَدٌ صمد وہ کبیر ہے جس کے اوپر اور کوئی نہیں۔تفاسیر میں صمد کے معنے اور تشریح اور بھی بیان ہوئی ہے۔بخوفِ طوالت اتنے پر اکتفا کیا گیا۔: اﷲ تعالیٰ بے نیاز ہے کسی کا محتاج نہیں۔سب اس کے محتاج ہیں۔وہ کسی کا مخلوق نہیں۔سب اس کی مخلوق ہیں۔سب کی حاجتوں کو پورا کرتا ہے۔وہ سب کی کیفیت جانتا ہے۔کوئی اس کی کیفیت کا عالم نہیں۔وہ سب پر احاطہ کئے ہوئے ہے کسی کا احاطہ اس پر نہیں۔سب کا مالک ہے اور سب اس کے مملوک ہیں۔: نہ وہ جنتا ہے اور نہ جنا گیا ہے۔نہ اس کو کوئی ولد ہے اور نہ کو کسی کا ولد ہے۔اس آیہ شریفہ میں ان تمام مذاہبِ باطلہ کا بالخصوص ردّ ہے جن میں اﷲ تعالیٰ کے بیٹے اور اولاد مانی جاتی ہے۔جیسا کہ اس زمانہ کے عیسائی یسوع مسیح کو ولد اﷲ اور یعنی اﷲ کہتے ہیں۔اس پر ایک سوال ہوا ہے کہ اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے پہلے کیوں رکھا ہے اور پیچھے کیوں رکھا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ عام طور پر مشرکین کا یہ مذہب ہوتا ہے کہ فلاں شخص خدا کا بیٹا تھا یا فلاں عورت خدا کی بیٹی تھی۔مگر یہ نہیں کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص خدا کا باپ تھا یا فلاں عورت خدا کی ماں تھی۔گو عیسائیوں کے جاہل فرقہ نے اس شرک میں کمال پیدا کیا ہے۔کیونکہ ان کے درمیان مریم کو خدا کی ماں کہا جاتا ہے اور ایک بڑا فرقہ عیسائیوں کا اب تک مریم کی پرستش کرتا ہے۔: اور نہ اس کے واسطے کوئی کفو ہے۔کفو کے لغوی معنے ہیں