حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 552
پھر لُغت عربی میں صمدؔ اس کو کہتے ہیں جس کا جوف نہ ہو۔یعنی اس کے اندر کوئی چیز نہ جا سکے۔نہ اس میں سے کوئی چیز نکلے۔ایسا ہی صمدؔ اُس شفاف پتھر کو بھی کہتے ہیں۔جس پر گرد و غبار نہ پر سکے مفیسرین نے مختلف پہلوؤں کے لحاظ سے لفظ صمدؔ کی تفسیر کئی طرح سے کی ہے جن میں سے بعض کو اس جگہ نقل کیا جاتا ہے۔۱۔صمدؔ وہ عالِم ہے جس کو تمام اشیاء کا علم ہو اور وہ بجز ذاتِ الہٰی کے د وسرا نہیں۔ٔ ۲۔صمدؔ حلیم کو کہتے ہیں کیونکہ سیّد وہی ہو سکتا ہے جو حکم اور کرم کی صفات اپنے اندر رکھتا ہے۔۳۔صمدؔ وہ سردار ہے جس کی سرداری اور سیادت انتہائی اعلیٰ درجہ تک ہو۔( ابن مسعود و ضحاک) ۴۔صمد خالق الاشیاء ہے۔(اَصَمّ) ۵۔صمد وہ ذات ہے۔جو چاہے سو کرے اور حکم کرتا ہے جو چاہتا ہے۔اس کے حکم کو کوئی پیچھے نہیں کر سکتا اور اس کی قضاء کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔( حسین بن فضل) ۶۔صمد وہ شخص ہے جس کی طرف لوگ حاجت کے وقت رغبت کرتے ہیں اور مصیبت کے وقت اس کے پاس اپنی فریاد لے جاتے ہیں(سدی) ۷۔سیّد المعظم کو صمد کہتے ہیں۔۸۔صمد غنی کو کہتے ہیں۔۹۔صمد وہ ہے جس کے اوپر اَور کوئی نہ ہو جیسا کہ قرآن شریف میں مذکور ہے۔وَھُوَ الْقَھِرُ فَوْقن عِبَادہٖ ( الانعام:۱۹) ۱۰۔صمد وہ ہے جو نہ کھاتا ہے اور نہ پیتا ہے پر دوسروں کو کھلاتا ہے اور پلاتا ہے۔( قتادہ) ۱۱۔حسن بصری کا قول ہے کہ صمد وہ ہے جو لَمْ یَزَلْ ہے اور لَاینزَالُ ہے۔اور اس کے لئے زوال نہیں۔۱۲۔صمد وہ ہے جس پر موت نہیں اور نہ اس کا کوئی وارث ہو گا اور آسمان و زمین کی میراث اسی کی ہے۔( ابن ابی کعب) ۱۳۔صمد وہ ہے جس پر نیند کا غلبہ نہیں اور نہ اس سے سہو صادر ہوتا ہے۔(یمان و ابو مالک) ۱۴۔صمد وہ ہے کہ جن صفات سے وہ متّصف ہوتا ہے۔دوسرا کوئی نہیں ہو سکتا ( ابن کیسان) ۱۵۔صمد وہ ہے جس میں کوئی عیب نہ ہو ( مقابل ابنِ خبان) ۱۶۔صمد وہ ہے جس پر کوئی آفت نہیں پڑ سکتی ( ربیع بن انس)