حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 554
ہیںنظیر اور مثیل۔عرب میں بولا کرتے ہیں ھٰذَا کَفْوُکن اَی نَظِیْرُکَ یہ تیرا کفوؔ ہے۔حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں لَیْسَ لَہٗ کُفُوٌ وَلَا مِثْلٌ۔مجاہد کا قول ہے کہ کفو سے مراد صاحبہ یعنی جورُو ہے جیسا کہ ایک اور جگہ اﷲ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے۔(الانعام:۱۰۲) وہ آسمانوں کا اور زمین کا بنانے والا ہے۔اس کا ولد کہاں سے آ گیا۔جبکہ کوئی اس کی کوئی جورُو نہیں اور اس نے ہر شئے پید اکی ہے اور ہر شئے اس کی مخلوق ہے نہ کہ اولاد۔یہاں تک ہم نے اس سورۂ شریفہ کے الفاظ کے معانی اور امن کی تشریح مفصل بیان کر دی ہے۔اب اس سورۃ کے مضمون پر اور اس کے فوائد اور عجائبات پر کچھ بیان کیا جاتا ہے۔یہ سورہ شریفہ باوجود مختصر ہونے کے بڑے عظیم الشان مطالب اور مضامین پر مشٹمل ہے۔لکھا ہے کہ سورہ الحمد سارے قرآن شریف کا خلاصہ ہے اور دو سورتیں معوذ تین آخری دعائیں۔اور قرآن شریف کا متن سورۃ بقرہ سے شروع ہوتا ہے اور سورۂ اخلاص پر ختم ہوتا ہے۔اس صورت میں یہ سورۃ قرآن شریف کی سب سے آخری سورۃ ہے اور لُطف یہ ہے کہ یہ سورہ آخری زمانہ کے عظیم الشان فتنۂ عیسائیت سے بچنے کے واسطے ایک بڑا ہتھیار ہے۔اس سورۃ میں اﷲ تعالیٰ کی توحید پر بالخصوص زور دیا گیا ہے۔کہوہ ایک خدا ہے۔اس کا کوئی بیٹا نہیں اور نہ اس کا کنبہ قبیلہ ہے۔اس میں عیسوی مذہب کی تردید کی گئی ہے۔کیونکہ دینِ عیسوی کا تمام دارو مدار تثلیث پر ہے کہ ایک خدا باپ ہے اور ایک خدا بیٹا اور ایک خدا روح القدس ہے۔عیسائیوں نے ایک کنبہ خدا کا یہاں مقرر کیا ہے۔کوئی باپ ہے۔کوئی بیٹا ہے۔کوئی روح القدس ہے مگر اﷲ تعالیٰ نے ان سب کی تردید کی ہے کہ خدا وہ ہے جو ہے۔کسی کا باپ نہیں اور ہے۔کسی کا بیٹا نہیں۔اور ہے۔نہ اس کے برابر کوئی روح القدس وغیرہ ہے۔۔۔ان ہرسہ کلمات کیساتھ تثلیث کو ردّ کر دیا گیا ہے۔اور اس ردّ کی دلیل الفاظ احد اور صمد میں بیان کی گئی ہے۔کیونکہ جو ایک ہے وہ تین کس طرح ہو سکتا ہے۔اور جو یگانہ ہے اس کے ساتھ دوسرا تیسرا اس کی مانند کیونکر بن سکتا ہے۔اور وہ صمد ہے کسی کا محتاج نہیں۔یسوع تو کھانے پینے کا محتاج تھا۔بھوک سے ایسا لاچار ہو جاتا تھا۔کہ جیسا کہ انجیلوں میں لکھا ہے کہ جس درخت پر سے پھل نہ ملے اس درخت کو بھی دیوانوں کی طرح گالیاں