حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 540
میں تم ضرور جانا چاہتے ہو تو جاؤ مگر اس کی باتیں نہ سننا کیونکہ اس کی باتوں میں ایک جادو ہے وہ تم پر اثر کر جائے گا تو تم بھی اس کے ساتھ شامل ہو جاؤ گے۔چنانچہ ایک صحابی کے ساتھ ایسا ہی کیا اور اس کے ساتھ ایک آدمی بھی لگایا کہ جلد اس کو واپس لے آنا۔زیادہ دیر تک وہاں بیٹھنے نہ دینا۔ورنہ ( نعوذ باﷲ) خراب ہو جائے گا۔مگر وہ خدا کا بندہ ہوشیار آدمی تھا۔اُس نے تھوڑی دُور جا کر اس آدمی کو واپس کر دیا۔کہ تم جاؤ۔میں خود اپنا راستہ تلاش کر لوں گا۔اور روئی کو کانوں میں سے نکال کر پھینک دیا۔ربیعہ بن عباد سے روایت ہے وہ کہتا ہے۔مَیں نے ایک دفعہ حصرت رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو ابتدائے زمانۂ رسالت میں دیکھا کہ آپؐ سوق المجاز میں کہہ رہے تھے۔اے لوگو! لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ کہو تو تم اپنی مراد کو پہنچ جاؤ گے۔بہت سے لوگ آپؐ کے پاس جمع تھے۔اور آپ کا وعظ سُن رہے تھے۔آپؐ کے پیچھے ایک شخص سُرخ چہرے والا اور احول لوگوں کو بہکاتا تھا کہ یہ شخص صابی ہے اور جھوٹ بولتا ہے۔جدھر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم جاتے وہ بھی آپؐ کے پیچھے پیچھے جاتا اور لوگوں کو بہکاتا کہ یہ شخص تم کو لات اور عُزّی کی عبادت سے منع کرتا ہے۔اس کے پیچھے مت جاؤ اور اس کی پیروی نہ کرو۔میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ شخص کون ہے۔تو انہوں نے کہا کہ یہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا چچا ہے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس کو تبلیغ کی تو اس نے سختی سے انکار کیا۔تب آپ نے خیال کیا کہ یہ متکبّر آدمی ہے۔لوگوں کے سامنے اس کو سمجھانا مفید نہیں پڑتا۔شاید اس کو علیحدگی میں سمجھایا جاوے تو ہدایت کی راہ پر آ جاوے اور جہنم میں گرنے سے بچ رہے۔اس واسطے آپ رات کے وقت اس کے مکان پر گئے اور ایسا کرنے میں آپؐ نے حضرت نوح علیہ السلام کی سنّت کو ادا کیا۔کیونکہ حضرت نوحؑ نے کہا تھا اِنِّیْ دَعَوْتَ قَوْمِیْ لَیْلًا وَ نَھَارًا ( نوح: ۶) میں نے رات کے وقت بھی انہیں تبلیغ کی اور حق کی طرف بلایا اور دن کو بھی بلایا جب آنحضرتؐ اس کے مکان پر پہنچا کہنے لگا کہ شآید آپ نے دن کے وقت جو کچھ کہا تھا اس کے متعلق عذر کرنے کے لئے اس وقت آئے ہیں۔پس رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم اس کے سامنے ادب سے بیٹھے رہے اور اسے اسلام کی طرف بہت تبلیغ کی۔پر اس پر کچھ اثر نہ ہو۔حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم ابتدائے زمانہ بعثت میں تبلیغ عام طور پر نہ کرتے تھے۔یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ ( الشعراء: ۲۱۵) اپنے قریبی قبائل کو آنے والے عذاب سے ڈراؤ۔تب آپؐ کوہِ صفا پر چڑھ گئے اور پُکارا۔اے آلِ غالب۔تب قبیلہ غآلب کے لوگ جمع ہو گئے۔اور ابولہب نے کہا۔لے آل غالب آ گئے۔اب بتا تیرے پاس کیا ہے