حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 541 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 541

تب آپؐ نے پکارا یا آل لُوَيّ۔اس وقت قبیلہ لُوَيّ جمع ہوا۔پھر ابولہب نے وہی کلمات کہے۔تب آپؐ نے آلِ مُرّہ کو پکارا۔اسی طرح پھر آل کلاب اور آلِ قُصَیّ کو پکارا۔ہر دفعہ ابولہب ایسا ہی کہتا رہا۔جب سب جمع ہو گئے۔تب آپؐ نے فرمایااِنَّ اﷲَ اَمَرَجِیْ اَنْ اُنْذِرَ عَثِیْرَتِیَ الْاَقْرَبِیْنَ۔وَ اَنْتُمُ الْاَقْرَبُوْنَ اِعْلَمُوْا اَنِّیْ لَا اُمْلِکُ لَکُمْ مِنَ الدُّنْیَا حَظًّا وّن لَا مِنَ الْاٰخِرَۃ نَصِیْبًا اِلَّا اَنْ تَقُوْلُوْا لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ فَاَشْھَدُ بِھَالَکُمْ عِنْدَ رَبِّکُمْ اﷲ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اپنے قبائل کوڈراؤں۔سوتم میرے قریبی ہو۔تم یاد رکھو کہ مَیں نہ دنیا میں تمہیں کچھ فائدہ پہنچا سکتا ہوں۔نہ آخرت سے تمہیں کچھ حصّہ دلا سکتا ہوں جب تک کہ تم اس بات پر ایمان نہ لاؤ کہ معبود سوائے اﷲ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں۔اگر تم میرا یہ کہنا مان لو تو اﷲ تعالیٰ کے حضور اس معاملہ میں مَیں تمہارے حق میں شہادت دوں گا۔ابولہب نے یہ ملمہ سن کو کہا۔تَبًّالَکَ أَلِھٰذَا دَعَوْتَنَا تجھ پر ہلاکت ہو۔کیا اس واسطے تو نے ہم کو پکارا تھا۔اس کے بعد آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر یہ سورۃ نازل ہوئی اور وہی ہلاکت کی بد دعا جو ابولہب نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ اس کافر نے کیا تھا اور اس قسم کے مباہلوں کی مثالیں خود اِس زمانہ میں بھی قائم ہو چکی ہیں۔جن میں سے ایک مولوی غلام دستگیر قصوری کا مباہلہ ہے کہ اس نے حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ مباہلہ کیا تھا اور ایک کتاب میں لکھا تھا کہ اگر وہ جھوٹے ہیں تو وہ ہلاک ہو جائیں اور اگر ان کو جھوٹا کہنے میں مَیں جھوٹا ہوں تو مَیں ہلاک ہو جاؤں۔چنانچہ اس کے بعد وہ بہت جلد ہلاک ہو گیا۔ایسا ہی علی گڑھ کا مولوی اسمٰعیل مسیح موعودؑکے مقابلہ میں مباہلہ کر کے ہلاک ہوا اور ایسا ہی جمّوں والا چراغ دین عیسائیوں کا دوست اور خود مسیح ہونے کا مدعی وہ بھی مباہلہ کے بعد واصلِ جہنم ہوا۔پھر آجکل ڈاکٹر عبدالحکیم نے اس مباہلہ میں پیش دستی کر کے حضرت مسیح موعودؑ کے حق میں تین سال کے اندر مر جانے کی پیشگوئی کی ہے۔دنیا عنقریب دیکھ لے گی کہ اس کا یہ کلمہ کس کو جھوٹا اور کس کو سچّا ثابت کر کے دکھا دیتا ہے۔مگر جن بد قسمتوں نے پہلے اس قدر واقعات سے فائدہ نہیں اٹھایا وہ اب کیا نفع حاصل کر سکتے ہیں؟ وَتَبَّ: اور ہلاک ہو گیا وہ۔تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَھَبٍ وَّ تَبَّ (اللّہب:۲) ہلاک ہوں ہر دو ہاتھ ابی لہب کے اور ہلاک ہوا۔وہ۔ہر دو ہاتھ سے مراد اس کا سارا وجود ہے یا اس کا دین اور دنیا۔یا اس کی اولاد ہے کیونکہ