حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 539
سوائے ہلاکت کے اَور کچھ نہیں۔کافر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔اس کی تمام تدابیر ضائع جاتی ہیں۔تَبَّتْکے دوسرے معنے نقصان اور گھاٹے کے ہیں فتح البیان میں تَبَّتْ کے معنے خَسِرَتْ وَ خابَتْ وَ ضَلَّتْ لکھا ہے یعنی گھاٹے میں پڑا اور نامراد ہوا اور گمراہ ہوا۔قرآن شریف میں کفّار کے حق میں ہے۔وَ مَا زادُوْھُمْ غَیْرَ تَتُبِیْبٍ ( ہود: ۱۰۲) ان کو کچھ زیادہ نہ ملا۔یعنی کچھ فائدہ نہیں۔صرف نقصان ہی ہوا۔غرض تَبَّتْ کے دو معنے ہیں۔ہلاکت اور نقصان اور گھاٹا۔مآل ہر دو معنوں کا ایک ہی ہے۔تباہی۔ناکامی اور نامرادی۔یَدَا: ہر دو دست۔دونوں ہاتھ یَدٌ کا تثنیہ ہے۔یَدٌ کا تثنیہ ہے۔یَدٌ کے معنے ایک ہاتھ۔یَدَا کے معنے دو ہاتھ۔اَیْدِی کے معنے بہت ہاتھ۔تَبَّتْ یَدَا کے معنے دونوں ہلاک ہوں۔اَبِیْ لَھْب۔کفّاررِ مکّہ کے اکابر میں سے ایک شخص تھا۔رشتہ میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا چچا تھا۔ابولہب اس کی کُنْیت تھی اور اس کا اصل نام عبدالعزّٰی تھا۔عرب میں ہر شخص کو بہ سبب عزّت کے کُنْیت سے بلاتے تھے۔اور اصل نام کی بجائے اکثر لوگ کُنْیت کے ساتھ زیادہ معروف ہوتے تھے۔لَھَبْ کے معنے ہیں شعلہ۔اور اَب کے معنے باپ۔اَبِیْ لَھَب کے معنے ہوئے شعلہ کا باپ۔بعض کا قول ہے کہ اس نے تکبّر کے طور پر اپنے لئے۔یہ کنیت پسند کی تھی۔ابولہب اس واسطے بھی اسے کہتے تھے۔کہ اس کا چہرہ بہت سرخ تھا۔یہ شخص آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ نہایت عداوت رکھتا تھا۔اور عداوت کی وجہ سوائے اس کے نہ تھی کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم توحید کا وعظ فرماتے تھے۔اور یہ بُت پرست تھا۔رات دن حضرت کو تکلیف دینے کے درپے رہتا تھا۔جو لوگ باہر سے آتے اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو مِلنا چاہتے۔ان کو آگے جا کر راستہ ہی میں ملتا۔اور بڑے تکلّف اور تکبّر کے ساتھ باتیں کرتا ہوا اُن کو سمجھاتا کہ دیکھو محمد ( صلی اﷲ علیہ وسلم۹ مجنون ہے۔ہم اس کے چچا ہیں۔وہ ہمارا بیٹا ہی ہے۔ہم اس کا علاج کر رہے ہیں۔تم اس کے پاس مت جاؤ۔بعض کو کہتا کہ محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) پر کسی جادو کیا ہوا ہے۔ایسے جادو زدہ شخص کے پاس جا کر تم کیا لو گے۔بہتر ہے کہ بہیںں سے واپس چلے جاؤ۔چنانچہ اس طرح کی باتیں بنا بنا کر لوگوں کو واپس کرنے کی کوشش کرتا رہتا۔بعض بدقسمت اس کا کہنا مان لیتے اور واپس چلے جاتے۔اور جو لوگ زیادہ ہوشیار ہوتے۔وہ کہتے کہ ہم تو اس کو ملنے کے واسطے آئے ہیں۔کچھ ہی ہو۔اب تو ملاقات کر کے ہی جائیں گے۔ایسے لوگوں پر خفا ہوتا اور پھر جھنجھلا کر آنحصرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا۔اور بعض کے کانوں میں روئی ڈال دیتا کہ اچھا