حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 528
نے خیال کیا۔کہ اہلِ اسلام ہمارا کیا بگاڑ سکتے ہیں۔اور اس نُصرت الہٰی اور امدادِ خداوندی کو بھول گئے جو اسلام ہاں سچے اسلام کی ہمیشہ حامی و مددگار ہے۔انہوں نے صلح کا عہد پھیر دیا۔قطع عہد اور ان کی بے ایمانی اور خزاعہ کا بدلہ لینے کے لئے آپ ؐ نے مکّہ پر چڑھائی کی چنانچہ مکّہ فتح ہوا اور اس حملہ میں وہ نرمی اور اخلاقی شریعت کی آپؐ نے پابندی کی جس کی نظیر دنیا میں مفقود ہے۔فرمایا جو کوئی ابوسفیان کے گھر میں گھس جائے اسے امان۔جو کوئی مسجد میں چلا جائے اسے امان۔غرض مطابق پیشگوئی مکّہ فتح ہوا اور کچھ بڑی خون ریزی نہ ہوئی۔اور کوئی کافر بہ جبر مسلمان نہ کیا گیا۔اس جگہ سارہ والے واعہ کا بیان کر دینا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہو گا۔اور وہ اس طرح سے ہے کہ سارہ نام ایک عورت جو کہ مکّہ میں رہتی تھی اور خاندان بنی ہاشم کے زیرِ سایہ پر پرورش پایا کرتی تھی۔ان ایّام میں جبکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فتح مکّہ کے واسطے کوچ کی تیاری کی۔آپؐ کے پاس مدینہ میں آئی۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تو مسلمان ہو کر مکّہ سے بھاگ آئی ہے۔اس نے جواب دیا کہ نہیں۔میں مسلمان ہو کر نہیں آئی۔بلکہ بات یہ ہے کہ میں اس وقت محتاج ہوں اور آپؐ کا خاندان ہمیشہ میری پرورش کیا کرتا ہے۔اس واسطے مَیں آپ کے پاس آئی ہوں تاکہ مجھے کچھ مالی امداد مِل جائے۔اس پر آنحضرتؐ نے بعض لوگوں کو فرمایا۔اور انہوں نے اس کو کچھ کپڑا اور روپیہ وغیرہ دیا۔جس کے بعد وہ واپس اپنے وطن کو روانہ ہو گئی۔جب روانہ ہونے لگی تو حَاطِب نے جو کہ اصحاب میں سے تھا اس کو دس درہم دئے اور کہا کہ میں تجھے ایک خط دیتا ہوں۔یہ خط اہلِ مکّہ کو دے دینا۔اس بات کو اس نے قبول کیا اور وہ یہ خط بھی لے گئی۔اس خط میں حاطبؔ نے اہلِ مکّہ کو خبر کی تھی۔کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے مکّہ پر چڑھائی کا ارادہ کیا ہے۔تم ہوشیار ہو جاؤ۔وہ عورت ہنوز مدینہ سے روانہ ہی ہوئی تھی کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی الہٰی خبر مل گئی۔کہ وہ ایک خط لے کر گئی ہے۔۔چنانچہ آپؐ نے اسی وقت حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو بمعہ عمّار اور ایک جماعت کے روانہ کر دیا کہ اس کو پکڑکر اس سے خط لے لیں۔اور اگر نہ دے تو اسے ماریں۔چنانچہ اس جماعت نے اس کو راہ میں جا پکڑا۔اس نے انکار کیا اور قسم کھائی کہ میرے پاس کوئی خط نہیں۔جس پر حصرت علیؓ نے تلوار کھینچ لی اور کہا کہ ہم کو جھوٹ نہیں کہا گیا۔بذریعہ وحِیٔ الہٰی کے خبر ملی ہے۔خط ضرور تیرے پاس ہے۔تلوار کے ڈر سے اس نے خط اپنے سر کے بالوں میں سے نکال دیا۔جب خط آ گیا اور معلوم ہوا کہ وہ حَاطِب کی طرف سے ہے تو حاطب بلایا گیا۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ یہ تو نے کیا کیا۔اس نے کہا مجھے خدا کی قسم ہے کہ جب سے میں ایمان لایا ہوں۔کبھی کافر نہیں ہوا۔بات صرف اتنی ہے کہ مکّہ میں میرے قبائل کا کوئی حامی اور خبر گیر نہیں۔میں نے اس خط