حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 529 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 529

سے صرف یہ فائدہ حاصل کرنا چاہا تھا۔کہ کفّار میرے قبائل کو دُکھ نہ دیں۔حضرت عمرؓ نے چاہا کہ حَاطِب کو قتل کر دیں۔مگر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے منع کیا اور فرمایا۔اﷲ تعالیٰ نے اصحابِ بدر پر خوشنودی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے۔کہ کرو جو بھی ہو۔مَیں نے تمہیں بخش دیا۔اس سورۃ شریف کی تفسیر میں کئی ایک روایات اس قسم کی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے اور آپؐ کے بعض صحابہ کرامؓ نے اس سورۃکے نزول کو سن کر یقین کیا کہ اب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا کام اس دنیا پر جو موجود تھا وہ ختم ہو چکا ہے۔اور وقت آ گیا ہے۔کہ وہ اپنے محبوبِ حقیقی کے ساتھ وصالِ دائمی حاصل فرماویں۔چنانچہ ایک حدیث جس میں حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا کے رونے اور پھر ھنسنے کا ذکر ہے گزشتہ پرچوں میں بیان کی جا چکی ہے…… ایک راویت سے جو حضرت امّ جیبہ سے ہے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے۔کہ اس سورۃ شریف کے نازل ہوئے پر حضرت رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو یہ خبر دی گئی تھی کہ آپؐ کی عمر حضرت عیسٰیؑ کی عمر سے نصف ہے اور حضرت عیسٰیؑ کی عمر ایک سو بیس سال تھی۔حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بھی اس سورۃ شریف کے وقت اس امر کے اشارہ کو سمجھ لیا تھا کہ آنحضرت صی اﷲ علیہ وسلم کا وقت قریب آ گیا ہے۔حضرت ابن عباسؐ سے روایت ہے کہ میں امیرالمومنین حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کی خلافت کے زمانہ میں ابھی بچہ ہی تھا۔مگر جب کوئی مجلس شورٰی قائم ہوتی اور بڑے بڑے اصحاب جو اہلِ بدر تھے جمع کئے جاتے تو حضرت عمرؓ مجھے بھی اس مجلس میں بلاتے۔میری عمر کے لڑگے کا ایسی اہم مجلس میں بلایا جانا شائد کسی کو ناپسند ہوا ہو گا کہ کسی نے کہا کہ یہ لڑکا ہمارے بیٹوں کے عمر کے برابر ہے اور ہمارے ساتھ مجلسِ شورٰی میں بیٹھتا ہے۔مگر حضرت عمرؐ نے جواب دیا کہ تم کیا جانتے ہو کہ یہ کون ہے۔اس کے بعد جب پھر ایسا ہی کسی مجلس کا موقعہ ہوا اور سب بلائے گئے تو حضرت عمرؐ نے اوّل دوسروں کو مخاطب کر کے فرمایا۔کہ سورۂ  کے متعلق تم کیا کہتے ہو۔بعض نے کہا کہ اس میں ہم کو حکم دیا گیا ہے کہ حمد و استغفار کریں۔بعض نے کہا کہ اس میں فتح ونصرت ہم کو دی گئی ہے۔اور بعض خاموش رہے۔تب حصرت عمرؐ نے مجھ سے پوچھا کہ تم کیا کہتے ہو۔کیا یہی صحیح ہے۔مَیں نے کہا نہیں۔بلکہ مَیں یہ جانتا ہوں کہ اس میں آنحصرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو جتلایا گیا ہے کہ اب آپ کی وفات کا وقت قریب ہے۔اب حمدو استغفار کرو۔حضرت عمر نے فرمایا مجھے بھی یہی معلوم ہے۔