حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 49 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 49

حضرت امام شافعیؒ کا ایک شعر ہے ؎ فَاِنَّ الْعِلْمَ نُوْرٌ مِّنْ اِلٰہٍ وَ ن نُوْرُ اﷲِ لَا یُعْطٰی لِعَاصِیْ یہ دراصل تفسیر ہے۔ کی۔پس قرآن مجید کے غوامض کی تہہ کو پہنچنے اور معضلات مسائل کے حل کے لئے پاک زندگی اور مطہر قلب ہونا چاہیئے۔ایک معمولی مہمان کے لئے مکان صاف کیا جاتا ہے۔اور حتی الوسع کوئی ناپاکی و گندگی نہیں رہنے دی جاتی۔تو خدا کے کلام کے معانی کے نزول کے لئے ایک مصفٰی دل کی کیوں ضرورت نہ ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معاملہ میں اگر لوگ اس اصل پر چلتے تو کبھی دھوکہ نہ کھاتے اور نہ مستوجب و عید ہوتے۔چاہیئے تھا۔کہ وہ خدا کے حضور رو رو کر عرض کرتے کہ الہٰی ہم پرحق کھُل جائے۔استغفار کرتے صدقہ و خیرات دیتے ار پاک زندگی اختیار کرتے۔انسان جو بُرے کام کرتا ہے۔ان کی ابتداء ان وسوسوں سے ہوتی ہے۔جو سینہ میں اٹھتے ہیں انکا علاج یہ ہے کہ جب ایسے خیالات کا سلسلہ اٹھنے لگےتو اس جگہ کو بدل کر باہر چلا جائے۔کسی سے باتوں میں لگ جائے۔موت کو یاد کرے۔ایک مشغلہ میں اگر وہ سلسلہ نہ ٹوٹے تو دوسرا مشغلہ اختیار کرے۔تنہا نہ رہے۔قرآن مجید کی تلاوت شروع کر دے۔عام طور پر لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲ بہت پڑھے۔الحمد پڑھے۔استغفار کرے۔نبی صلی اﷲ علیہ وسلم پر درود بھیجے۔لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاﷲِ کا ورد کرے۔(تشحیذالاذہان جلد۷ نمبر۵ صفحہ ۱۳۷۔۱۳۸)